صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 570
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۷۰ ۶۵ - کتاب التفسير / الكهف وَ إِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتْهُ : شارحین کے نزدیک حضرت موسیٰ کے ساتھی یوشع بن نون ہیں جو اُن کی وفات پر اُن کے خلیفہ ہوئے تھے۔ عہد نامہ قدیم میں اس نام کی ایک کتاب بھی ہے۔ اس روایت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نوجوان کا نام یوشع بن نون ہی بتایا گیا ہے۔ حضرت یوشع بن نون نے بھی اپنی قوم بنی اسرائیل سے توحید پر قائم رہنے کا عہد لیا تھا۔ یشوع ۲۴ : ۲۰ تا ۲۷) مگر وہ وہ اس اس عہد پر قائم نہیں رہے رہے اور اور مچھلی گم کم کر کر با بیٹھے۔ حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انتہائی بسط سے ان آیات کریمہ کی تفسیر بیان فرمائی ہے۔ اس تعلق میں آپ فرماتے ہیں: فتی کے متعلق روایات میں لکھا ہے کہ وہ یوشع بن نون تھے۔ کوئی تعجب نہیں کہ کشف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو ہی ساتھ دیکھا ہو۔ لیکن میری اپنی رائے یہ ہے کہ یہ دوسرا شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے، جنہوں نے موسوی سلسلہ کے سفر کے آخری دور میں قوم کی راہنمائی کرنی تھی۔ اور گویا موسوی سفر کا اختتام ان کی معیت میں ہونا تھا۔“ ( تفسیر کبیر، سورۃ الکہف، آیت وَ إِذْ قَالَ مُوسى نفسه، جلد ۴ صفحه ۴۷۰) الْبَحْرین سے مراد علم الہی ہے۔ الہی ہے۔ جیسا کہ اسی روایت میں علم کے غیر محدود ہونے کا ذکر بار بار آیا ہے : والله ما عِلْمِي وَمَا عِلْمُكَ فِي جَنْبِ عِلْمِ اللهِ إِلَّا كَمَا أَخَذَ هَذَا الطَّائِرُ مِنْقَارِهِ مِنَ الْبَحْرِ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے بالمقابل میرا علم اور تیر اعلم اتناہی ہے جتنا کہ اس پرندے نے اپنی چونچ سے سمندر سے پانی لیا ہے۔ سمندر سے مراد تمثیلاً علم ہے اور مجمع البحرین وہ مقام معرفت تامہ ہے کہ جب کوئی انسان اس مقام کو حاصل کر لیتا ہے تو اس کی نظر اس مادی دنیا کے قابل احتراز و تعجب واقعات و حوادث میں مشیت الہی کو کار فرما دیکھتی ہے اور اسے ظاہر و باطن میں پوری پوری موافقت نظر آتی ہے ہے اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ دنیا کی ہر شے حکمت پر مبنی ہے۔ مجمع البحرین کے مقام پر جو خضر راہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مکاشفہ میں متمثل دکھائی دیا ہے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے جن کے متعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خود پیشگوئی فرمائی ہے کہ وہ میری طرح صاحب شریعت ہوں گے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ساری باتوں کا علم دیا جائے گا۔ دیکھئے کتاب مقدس ( شائع کردہ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی لنڈن ۱۸۸۷ء)، استثناء باب ۱۸: ۱۵ تا ۲۰ نیز یوحنا باب ۱۶: ۱۲ ۱۳۔ سورۂ کہف میں بھی اس خضر راہ کی نسبت یہ الفاظ ہیں : عَلَيْنَهُ مِنْ لَدُنَا عِلْمًا (الكهف: ۶۶) اُسے ہم نے اپنی جناب سے (خاص) علم (بھی) عطا کیا تھا۔ مچھلی بھولنے سے مراد یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم عبادت کی غرض وغایت بھول جائے گی۔ چونکہ مکاشفہ کا یہ حصہ بھی تمثیلی صورت رکھتا ہے اس لئے تمثیلی پیرایہ بیان قابل تاویل ہے اور اسے ظاہر پر محمول کرنا معقول نہیں۔ اس تعلق میں تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر کبیر جلد ۴ صفحہ ۴۶۵ تا ۴۹۰۔