صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 569
صحيح البخاری جلد ۱۰ غَيْرِ وَاحِدٍ إِنَّهَا جَارِيَةٌ۔۵۶۹ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف کیا اور ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ تارکول سے ( بند کیا۔اس لڑکے کے ماں باپ مومن تھے اور وہ خود کافر تھا۔اس پر ہم ڈرے کہ ایسا نہ ہو ( بڑے ہو کر) وہ ان پر سرکشی اور کفر کا الزام لگوا دے۔یعنی اس کی محبت انہیں اس کے دین کی پیروی کرنے پر آمادہ نہ کر دے، پس ہم نے چاہا کہ ان کا رب ان کو اس (لڑکے) سے پاکیزگی اور رحم وانصاف کے لحاظ سے بہتر (لڑکا بدل کر دے دے۔موسیٰ نے یہی اعتراض کیا تھا کہ آپ نے ایک پاک لڑ کا قتل کر دیا ہے۔اور اقرب رحما جو قرآن میں ہے، اس کے معنی ہیں کہ ماں باپ اس دوسرے لڑکے پر پہلے لڑکے سے بھی زیادہ مہربان ہوں گے جسے خضر نے قتل کر دیا۔سعید کے سوا کسی اور راوی نے یہ سمجھا ہے کہ انہیں اس لڑکے کے بدلے میں ایک لڑکی دی گئی۔( اور ابن جریج نے کہا : ) داؤد بن ابی عاصم راوی جو ہیں انہوں نے کئی شخصوں سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ لڑکی تھی۔أطرافه ،٧٤ ،۷۸، ۱۲۲ ، ۲۲۶۷، ۲۷۲۸، ۳۲۷۸، ۳٤۰۰ ، ۳٤۰۱ ، ۱۷۲۵ ، ٤٧۲۷ ، ٦٦٧٢، ٧٤٧٨- شريح : فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوْتهما: روایت نمبر ۴۷۲۶ سے متعلق یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ یہ کئی راویوں سے مروی ہے اور راویوں کے الفاظ میں چھوٹے سے چھوٹا جو اختلاف ہے وہ امام بخاری نے راویوں کے حوالے سے نمایاں کیا ہے۔اس سے غالباً یہ توجہ دلانا مقصود ہے کہ ان چھوٹے چھوٹے لفظی اختلاف سے قطع نظر کرتے ہوئے جو اصل واقعہ قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے وہ مد نظر رکھا جائے اور جو سبق اس میں مضمر ہے وہ اصل مقصود ہے۔راویوں کے لفظی اختلاف کا خیال نہ کیا جائے کہ اس اختلاف سے چارہ نہیں، خصوصاً جب ایک لمبا واقعہ جو سمائی ہو اس میں لفظی اختلاف کا واقع ہونا طبعی ہے، کیونکہ اس کا دارو مدار سماعت پر ہے اور ضعف و قوت حافظہ سے تعلق رکھتا ہے۔اس واقعہ سے متعلق جو سوالات اُٹھ سکتے ہیں، ان میں سے بعض کے جوابات اختصاراً حسب ذیل ہیں۔