صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 567 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 567

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۶۷ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِی کو پہچان لیا۔ آپس میں کہنے لگے : یہ اللہ کے نیک صبرا (الكهف: ٧٣) كَانَتِ الْأُولَى بندے ہیں۔ (یعلی بن مسلم نے) کہا: ہم نے سعید نِسْيَانًا وَالْوُسْطَى شَرْطًا وَالثَّالِثَةُ عَمْدًا سے پوچھا، ان کی اس سے مراد خضر تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ (کشتی والوں نے کہا: ) ہم کرایہ لے قَالَ لَا تُؤَاخِذُ نِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا کر ان کو سوار نہیں کریں گے۔ (پھر) خضر نے اس تُرْهِقُنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا (الكهف: ٧٤) کشتی کو پھاڑ دیا ( اور شگاف میں ) ایک میخ گاڑ دی۔ لَقِيَا غُلْمًا فَقَتَلَهُ (الكهف : ٧٥) قَالَ موسیٰ نے کہا: کیا آپ نے اس لیے شگاف کیا ہے کہ يَعْلَى قَالَ سَعِيدٌ وَجَدَ غِلْمَانًا آپ اس کے اندر بیٹ را بیٹھ کر جانے والوں کو غرق کر دیں۔ آپ نے یقینا (یہ) ایک نا پسندیدہ کام کیا يَلْعَبُونَ فَأَخَذَ غُلَامًا كَافِرًا طَرِيفًا ہے۔ مجاہد نے کہا: مُنكَرًا (یعنی اوپرا یا بُرا)۔ فَأَضْجَعَهُ ثُمَّ ذَبَحَهُ بِالسِّكِينِ، قَالَ (خضر نے) کہا: کیا میں نے (مجھے) نہیں کہا تھا کہ اقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ تُو میرے۔ و میرے ساتھ رہ کر ہر گز صبہ ہرگز صبر نہیں کر سکے گا۔ یہ یہ پہلی بات بھول کر ہو گئی ہے اور درمیانی بات شرطیہ (الكهف: ٧٥) لَمْ تَعْمَلُ بِالْحِنْثِ تھی اور تیسری قصد یہ موسیٰ نے کہا: (کہ اس دفعہ ) وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَرَأَهَا زَكِيَّةً زَاكِيَةً آپ مجھ پر گرفت نہ کریں کیونکہ میں (آپ کی مُسْلِمَةً كَقَوْلِكَ غُلَامًا زَكِيًّا فَانْطَلَقَا ہدایت کو بھول گیا تھا۔ او اتھا۔ اور آپ میری (اس) بات فَوَجَدَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَ فَأَقَامَهُ کی وجہ سے مجھ پر سختی نہ کریں۔ (پھر) وہ دونوں ایک لڑکے سے ملے۔ خضر نے اس کو مار ڈالا۔ یعلیٰ قَالَ سَعِيدٌ بِيَدِهِ هَكَذَا وَرَفَعَ يَدَهُ نے کہا: سعید کہتے تھے : خضر نے کچھ لڑکوں کو کھیلتے فَاسْتَقَامَ قَالَ يَعْلَی حَسِبْتُ أَنَّ دیکھا تو ایک خوبصورت لڑکے کو پکڑا جو کافر تھا۔ سَعِيدًا قَالَ فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ فَاسْتَقَامَ، لَو اسے لٹایا اور چھری سے اُسے ذبح کر دیا۔ موسیٰ نے شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا (الكهف: ۷۸) کہا: کیا آپ نے بغیر کسی نفس کے عوض ایک پاکیزہ نفس کو مار ڈالا ہے جس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا؟ قَالَ سَعِيدٌ أَجْرًا نَّأْكُلُهُ وَكَانَ وَرَاءَهُمْ اور حضرت ابن عباس نے اس آیت میں لفظ زَكِيَّةً وَكَانَ أَمَامَهُمْ قَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ کو زَاكِيَةً پڑھا ہے بمعنی مُسلِمةً۔ جیسے تم کہتے ہو