صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 565 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 565

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۶۵ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف نُونٍ لَيْسَتْ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ فَبَيْنَا جہاں وہ مچھلی تم سے جدا ہو۔نوجوان نے کہا: آپ هُوَ فِي ظِلِ صَحْرَةٍ فِي مَكَانٍ ثَرْيَانَ نے کسی بڑی بات کی تکلیف نہیں دی ہے۔یعنی یہ معمولی سی بات ہے اور یہی بات ہے جو اللہ جل ذکرہ إِذْ تَضَرَّبَ الْحُوتُ وَمُوسَى نَائِم نے قرآن شریف میں ) فرمائی ہے کہ اور جب فَقَالَ فَتَاهُ لَا أُوقِظُهُ حَتَّى إِذَا موسیؑ نے اپنے نوجوان سے کہا یعنی یوشع بن نون اسْتَيْقَظَ نَسِيَ أَنْ يُخْبِرَهُ وَتَضَرَّبَ ہے۔یہ الفاظ سعید بن جبیر ) سے نہیں ہیں۔الْحُوتُ حَتَّى دَخَلَ الْبَحْرَ فَأَمْسَكَ بلکہ ابن جریج سے ہیں۔حضرت ابن عباس) کہتے تھے: اس اثنا میں کہ موسیٰ ایک چٹان کے سائے اللهُ عَنْهُ جِرْيَةَ الْبَحْرِ حَتَّى كَأَنَّ أَثَرَهُ تلے ایک ٹھنڈی جگہ لیٹ گئے، مچھلی تڑپنے لگی، فِي حَجَرٍ قَالَ لِي عَمْرُو هَكَذَا كَانَ موسی سوئے ہوئے تھے۔نوجوان نے (دل میں) أَثَرُهُ فِي حَجَرٍ وَحَلَّقَ بَيْنَ إِبْهَامَيْهِ کہا: میں انہیں نہیں جگاتا۔آخر جب موسیٰ خود ہی وَاللَّتَيْنِ تَلِيَانِهِمَا، لَقَد لَقِينَا مِنْ جاگے تو غلام ان کو یہ بتانا بھول گیا اور مچھلی تڑپ کر سمندر میں چلی گئی۔اللہ نے اس پر سمندر کا بہاؤ سَفَرِنَا هُذَا نَصَبَّا (الكهف: ٦٣) قَالَ قَدْ روک دیا۔یہاں تک کہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس قَطَعَ اللهُ عَنْكَ النَّصَبَ لَيْسَتْ هَذِهِ مچھلی کا نشان پتھر پر موجود ہو۔(ابن جریج کہتے عَنْ سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ فَرَجَعَا فَوَجَدَا تھے: عمرو بن دینار) نے مجھ سے یوں کہا: پتھر خَضِرًا قَالَ لِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي پرنشان اس طرح تھا۔اور ( یہ بات بتاتے ہوئے) اپنے دونوں انگوٹھوں اور دونوں انگلیوں سے جو سُلَيْمَانَ عَلَى طِنْفِسَةٍ خَضْرَاءَ عَلَی انگوٹھوں کے ساتھ ہیں ملاکر حلقہ بنایا۔( پھر روایت كَبِدِ الْبَحْرِ قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ شروع کر دی کہ موسیٰ نے کہا : ہمیں یقینا اپنے اس مُسَجَّى بِثَوْبِهِ قَدْ جَعَلَ طَرَفَهُ تَحْتَ سفر کی وجہ سے تھکان ہو گئی ہے۔(نوجوان نے) کہا: اللہ نے آپ کی تھکان دور کر دی ہے۔یہ الفاظ سعید سے مروی نہیں ہیں۔(آخر) غلام نے موسیٰ عَلَيْهِ مُوسَى فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ سے واقعہ بیان کیا اور وہ دونوں وہیں سے واپس وَقَالَ هَلْ بِأَرْضِي مِنْ سَلَامٍ مَنْ أَنْتَ ہوئے اور خضر کو پالیا۔( ابن جریج کہتے تھے کہ) رِجْلَيْهِ وَطَرَفَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ فَسَلَّمَ