صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 564
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۶۴ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف لِي قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ فقرہ نہیں کہا، کچھ یوں) بیان کیا کہ حضرت ابن كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عباس نے کہا: حضرت ابی بن کعب نے مجھ سے بیان کیا، کہا: رسول اللہ صلی السلام نے فرمایا کہ موسیٰ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوسَى رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ رسول اللہ علیہ السلام نے ایک دن لوگوں کو وعظ السَّلَامُ قَالَ ذَكَّرَ النَّاسَ يَوْمًا حَتَّى و نصیحت کی۔یہاں تک کہ جب آنکھوں سے آنسو إِذَا فَاضَتِ الْعُيُونُ وَرَقَتِ الْقُلُوبُ بہنے لگے اور دل پگھل گئے ، موسی پیٹھ موڑ کر چلنے وَلَّى فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَيْ رَسُولَ اللهِ لگے۔اتنے میں ایک شخص ان سے ملا اور کہنے لگا: یارسول اللہ ! کیا زمین میں کوئی ہے جو آپ سے هَلْ فِي الْأَرْضِ أَحَدٌ أَعْلَمُ مِنْكَ بڑھ کر عالم ہو۔موسیٰ نے کہا: نہیں۔اس وجہ سے قَالَ لَا فَعَتَبَ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ (اللہ نے ) اُن پر ناراضگی کا اظہار کیا۔کیونکہ انہوں الْعِلْمَ إِلَى اللهِ قِيلَ بَلَى قَالَ أَيْ نے جواب میں نہیں کہا کہ اللہ ہی سب سے بڑھ کر علم رَبِّ فَأَيْنَ قَالَ بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ رکھتا ہے۔اُن سے کہا گیا: نہیں (بلکہ تم سے بڑھ کر بھی عالم ہے۔موسیٰ نے کہا: اے میرے رب وہ قَالَ أَيْ رَبِّ اجْعَلْ لِي عَلَمًا أَعْلَمُ کہاں ہے؟ فرمایا: مجمع البحرین میں۔(جہاں دو سمندر ذَلِكَ مِنْهُ فَقَالَ لِي عَمْرُو قَالَ اکٹھے ہوتے ہیں ) موسیٰ نے کہا: یا رب! میرے حَيْثُ يُفَارِقُكَ الْحُوتُ وَقَالَ لِي لیے کوئی نشان مقرر فرما جس کے ذریعہ مجھے اس يَعْلَى قَالَ خُذْ نُونًا مَيْتًا حَيْثُ جگہ کا علم ہو جائے۔(ابن جریج کہتے تھے:) عمرو (بن دینار) نے مجھ سے یوں کہا: رب نے فرمایا: يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ فَأَخَذَ حُوتًا وہ وہاں ہو گا) جہاں مچھلی تم سے جدا ہو جائے گی۔( فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ فَقَالَ لِفَتَاهُ ( ابن جریج کہتے تھے کہ) یعلی بن مسلم) نے مجھے لَا أُكَلِّفُكَ إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنِي بِحَيْثُ سے یہ الفاظ) کہے: رب نے فرمایا: ایک مردہ مچھلی يُفَارِقُكَ الْحُوتُ قَالَ مَا كَلَّفْتَ لو۔جہاں اس میں روح پھونکی جائے گی (وہاں وہ ہو گا۔چنانچہ موسیٰ نے ایک مچھلی لی اور وہ ٹوکری میں رکھ لی اور اپنے نوجوان سے کہا: میں تمہیں اور قَالَ مُوسى لِفَتْهُ ( الكهف: ٦١) يُوشَعَ تکلیف نہیں دیتا سوا اس بات کے کہ تم مجھے بتا دینا كَثِيرًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: وَإِذْ