صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 563 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 563

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۶۳ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف بَاب : فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا (الكهف : ٦٢ ) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) پس جب وہ (دونوں) ان ( دونوں سمندروں) کے باہم ملنے کی جگہ پر یعنی قرب زمانہ نبوی تک پہنچے تو وہ اپنی مچھلی (وہاں) بھول گئے۔ جس پر اس (مچھلی) نے تیزی سے بھاگتے ہوئے سمندر میں اپنی راہ لی مَذْهَبًا، يَسْرُبُ يَسْلُكُ وَمِنْهُ سَرَب کے معنی ہیں راستہ ۔ تشرب کے معنی ہیں سَارِبٌ بِالنَّهَارِ (الرعد: ١١)۔ وہ چلتا ہے اور اس سے سَارِبٌ بِالنَّهَارِ ہے۔ (جو قرآن مجید میں ہے) یعنی دن کو چلنے والا۔ ٤٧٢٦ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۴۷۲۶: ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ ابْنَ ہشام بن یوسف نے ہمیں خبر دی۔ ابن جریج نے ان کو بتایا۔ انہوں نے کہا: یعلی بن مسلم اور عمرو بن دینار جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى نے مجھے بتایا۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ان بْنُ مُسْلِمٍ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ میں سے ایک اپنے ساتھی سے کچھ زیادہ بیان کرتا سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى تھا۔ نیز ان دونوں کے علاوہ کسی اور کو بھی میں نے صَاحِبِهِ وَغَيْرُهُمَا قَدْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ سعید بن جبیر سے ہی روایت کرتے سنا ہے۔ انہوں عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ إِنَّا لَعِنْدَ نے کہا: ہم حضرت ابن عباس کے پاس ان کے گھر میں تھے جب انہوں نے کہا: مجھ سے پوچھیں (جو ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِهِ إِذْ قَالَ سَلُونِي پوچھا ہوں) میں نے کہا: ابو عباس ! اللہ مجھے آپ کے قُلْتُ أَي أَبَا عَبَّاسٍ جَعَلَنِي اللهُ قربان کرے۔ کوفہ میں ایک شخص قصہ گو ہے جسے فِدَاءَكَ بِالْكُوفَةِ رَجُلٌ قَاصُ يُقَالُ نوف کہتے ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے موسی نہیں تھے (جو خضر سے علم حاصل کرنے لَهُ نَوْفٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ بِمُوسَى کے لئے گئے۔ ابن جریج کہتے تھے: عمرو (بن بَنِي إِسْرَائِيلَ أَمَّا عَمْرُو فَقَالَ لِي قَالَ دينار) نے مجھ سے یوں کہا (حضرت ابن عباس) قَدْ كَذَبَ عَدُوٌّ اللَّهِ وَأَمَّا يَعْلَى فَقَالَ کہنے لگے : اللہ کے دشمن نے غلط کہا ہے۔ یعلیٰ نے ( یہ