صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 562 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 562

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۶۲ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف وَلَمْ يُضَيِّفُونَا، لَوْ شِثْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ نے اس (بستی) میں ایک ایسی دیوار پائی جو گرنے کو اَجْرًا قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنكَ تھی۔کہتے تھے جھکی ہوئی تھی۔خضر اُٹھے اور آپ إِلَى قَوْلِهِ ذَلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ نے ہاتھ سے اس کو سیدھا کر دیا۔موسیٰ نے کہا: یہ ایسے لوگ ہیں کہ ہم ان کے پاس آئے۔انہوں نے عَلَيْهِ صَبرًا (الكهف: ۷۸-۸۳) فَقَالَ ہمیں کھانے کو نہ دیا اور نہ ہمیں مہمان ٹھہرایا۔اگر رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِدْنَا آپ چاہتے تو یقینا اس کی کچھ نہ کچھ ) اجرت لے أَنَّ مُوسَى كَانَ صَبَرَ حَتَّى يَقُصَّ الله سکتے تھے۔خضر نے کہا: یہ میرے درمیان اور عَلَيْنَا مِنْ خَبَرِهِمَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ تمہارے درمیان جدائی ( کا وقت) ہے۔۔۔۔۔(پھر انہوں نے ) اس آیت تک (پڑھا جس میں فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ وَكَانَ أَمَامَهُمْ وَکرے) کہ یہ اس بات کی حقیقت ہے جس پر تو مَلِكُ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِيْنَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا صبر نہیں کر سکا۔رسول اللہ صلی اللی یم نے یہ واقعہ بیان وَكَانَ يَقْرَأُ وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ كَافِرًا کر کے فرمایا: ہمیں یہ خواہش ہی رہ گئی کہ موسی صبر وَكَانَ آبَوهُ مُؤْمِنَيْنِ (الكهف: ۸۱) کرتے تا اللہ ان دونوں کے حالات ہم سے بیان کرتا۔سعید بن جبیر نے کہا: حضرت ابن عباس اس آیت کو یوں پڑھا کرتے تھے: وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكْ اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر صحیح کشتی کو زبر دستی چھین لیتا تھا۔اور پڑھتے تھے کہ یہ جو لڑکا تھا وہ کافر تھا اور اس کے ماں باپ مومن تھے۔أطرافة: ٧٤ ،۷۸، ۱۲۲ ، ،۲۲٦٧، ۲۷۲۸، ۳۲۷۸، ٣٤۰۰، ٣٤٠١، ٤٧٢٦ ، ٤٧٢٧، ٦٦٧٢، ٧٤٧٨- تشريح۔وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتْهُ لَا اَب مح: حقا کے معنی ہیں لسا زمانہ۔یہ منی ابو عبیدہ سے مروی ہیں۔عبد الرزاق نے بھی قتادہ سے یہی معنی نقل کیے ہیں۔حقبَةٌ بھی منقول ہے جس کی جمع حقب ہے۔ابن مندر نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے بیان کیا ہے کہ یہ لفظ اسی (۸۰) سال کے عرصہ پر اطلاق پاتا ہے۔حضرت ابن عباس سے اس کے معنی اللہ ھو مروی ہیں یعنی زمانہ سالہا سال۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۲۱) مَجمَعَ الْبَحْرَيْن: وہ مقام ہے جہاں دونوں سمندر اکٹھے ہوں۔اس مقام سے کیا مراد ہے ؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نوجوان ساتھی کون تھا اور معنونہ آیت میں کسی واقعہ کا ذکر ہے۔ان تینوں باتوں کی تفصیل مابعد کے ابواب میں ہے اور عنقریب بیان کی جائے گی۔