صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 561
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۶۱ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف نِسْيَانًا۔قَالَ وَجَاءَ عُصْفُورٌ فَوَقَعَ عَلَى ہوئی۔کہتے تھے۔اور ایک چڑیا آئی اور آکر کشتی حَرْفِ السَّفِينَةِ فَنَقَرَ فِي الْبَحْرِ نَقْرَةً کے کنارے پر بیٹھ گئی اور اس نے سمندر میں فَقَالَ لَهُ الْخَضِرُ مَا عِلْمِي وَعِلْمُكَ ایک چونچ ماری۔یہ دیکھ کر خضر نے موسیٰ سے کہا: علم الہی سے جو علم مجھے اور تجھے حاصل ہوا ہے، مِنْ عِلْمِ اللهِ إِلَّا مِثْلُ مَا نَقَصَ هَذَا اتناہی ہے جتنا اس چڑیا نے سمند ر سے کم کیا ہے۔الْعُصْفُورُ مِنْ هَذَا الْبَحْرِ ثُمَّ خَرَجَا پھر وہ دونوں کشتی سے نکلے ، اس دوران کہ وہ مِنَ السَّفِينَةِ، فَبَيْنَا هُمَا يَمْشِيَانِ عَلَى سمندر کے کنارے چلے جارہے تھے ، خضر نے السَّاحِلِ إِذْ أَبْصَرَ الْخَضِرُ غُلَامًا ایک لڑکا دیکھا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل يَلْعَبُ مَعَ الْعِلْمَانِ، فَأَخَذَ الْخَضِرُ رہا تھا۔خضر نے اس کا سر پکڑا اور اپنے ہاتھ سے اسے اکھیڑ کر مار ڈالا۔موسیٰ نے یہ دیکھ کر خضر سے رَأْسَهُ بِيَدِهِ فَاقْتَلَعَهُ بِيَدِهِ فَقَتَلَهُ۔کہا: کیا آپ نے ایک پاکیزہ نفس بغیر کسی نفس کے فَقَالَ لَهُ مُوسَى اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَاكِيَةً بدلے کے مارڈالا ہے؟ آپ نے یقیناً ( یہ ) بہت بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا تكران بُرا کام کیا ہے۔خضر نے کہا: کیا میں نے (تجھے ) قال الم اقل لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ نہیں کہا تھا (کہ) تو میرے ساتھ رہ کر ہر گز صبر مَى صَبْرًا ( الكهف: ٧٥-٧٦) قَالَ وَهَذِهِ نہیں کر سکے گا۔موسیٰ نے کہا: یہ کام تو پہلے سے بھی زیادہ سخت ( ناگوار ) ہے۔موسیٰ نے کہا: اگر أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ اس کے بعد میں نے کسی بات کے متعلق آپ سے شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصحِبَنِي قَدْ بَلَغْتَ پوچھا تو ( بیشک ) آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئیے گا۔مِنْ لَدُنْ عُدْرًا فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا (اور اس صورت میں) آپ یقیناً میری اپنی انَيَا أَهْلَ قَرْيَةِ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَابُوا رائے کے مطابق معذور سمجھے جانے کی حد تک أن يُضَيفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ پہنچ چکے ہوں گے۔پھر وہ (وہاں سے بھی) چل پڑے۔یہاں تک کہ جب وہ ایک بستی کے أَن يَنْقَضَ (الكهف: ۷۷-۷۸) قَالَ مَائِل لوگوں کے پاس پہنچے تو اس بستی کے باشندوں فَقَامَ الْخَضِرُ فَأَقَامَهُ بِيَدِهِ۔فَقَالَ سے انہوں نے کھانا مانگا، مگر اُنہوں نے انہیں مُوسَى قَوْمٌ أَتَيْنَاهُمْ فَلَمْ يُطْعِمُونَا، (اپنے) مہمان بنانے سے انکار کر دیا۔پھر انہوں