صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 560
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۶۰ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف ذكراً (الكهف: ۷۱) فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ (مستقل مزاج) پائیں گے اور میں کسی بات میں عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ ، فَمَرَّتْ سَفِينَةٌ، آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔خضر نے ان سے فَكَلَّمُوهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمْ، فَعَرَفُوا کہا: اگر تمہیں میرے ساتھ ہی رہنا ہے تو پھر کسی الْخَضِرَ فَحَمَلُوهُمْ بِغَيْرِ نَوْلِ۔فَلَمَّا بات کے متعلق مجھے سے نہ پوچھنا یہاں تک کہ میں خود ہی تم سے اس کا ذکر کروں۔چنانچہ وہ رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ لَمْ يَفْجَأَ إِلَّا وَالْخَضِرُ دونوں سمندر کے کنارے کنارے چل پڑے۔قَدْ قَلَعَ لَوْحًا مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ اتنے میں ایک کشتی گزری۔انہوں نے کشتی والوں بِالْقَدُومِ۔فَقَالَ لَهُ مُوسَى قَوْمٌ حَمَلُونَا سے کہا کہ انہیں بھی سوار کر لیں۔کشتی والوں نے بِغَيْرِ نَوْلٍ، عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ خضر کو پہچان لیا اور اُن کو بغیر کرایہ لئے سوار کیا۔فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا جب وہ دونوں کشتی پر سوار ہوئے تو ابھی تھوڑی امران قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ ہی دیر گزری تھی کہ یکا یک خضر نے تیشے سے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ نکال دیا۔موسیٰ نے ان سے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بغیر کرایہ مَعي صَبْرًا قَالَ لَا تُؤَاخِذْنَى بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرِهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْدًان لئے ہمیں سوار کیا ہے۔آپ ان کی کشتی پر لیکے (الكهف: ٧٢-٧٤) ہیں اور اس میں شگاف کر دیا ہے تا جو اس کشتی میں ہیں ان کو غرق کر دیں۔آپ نے یقیناً ( یہ ) ایک نا پسندیدہ کام کیا ہے۔خضر بولے: کیا میں نے (تجھے ) نہیں کہا تھا (کہ) تو میرے ساتھ رہ کر ہرگز نہیں کر سکے گا۔موسیٰ نے کہا: (اس دفعہ) آپ مجھ پر گرفت نہ کریں کیونکہ میں (آپ کی ہدایت کو بھول گیا تھا۔اور آپ میری (اس) بات کی وجہ سے مجھ پر سختی نہ کریں۔قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ حضرت ابن عباس) کہتے تھے : اور رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى صَلى الله ﷺ نے فرمایا: یہ پہلی غلطی موسی سے بھول کر