صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 558
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۵۸ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ إِنَّ لِي عَبْدًا بِمَجْمَعِ نہیں لوٹایا۔(کیوں یہ جواب نہیں دیا کہ اللہ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ۔قَالَ مُوسَى سب سے بڑھ کر عالم ہے۔چنانچہ اللہ نے اُن کو يَا رَبِّ فَكَيْفَ لِي بِهِ قَالَ تَأْخُذُ مَعَكَ وحی کی کہ میرا ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔موسیٰ نے عرض کی کہ حُوتًا فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ، فَحَيْثُمَا اے میرے رب ! میں اُس تک کیونکر پہنچوں۔فَقَدْتَ الْحُوتَ فَهُوَ ثَمَّ فَأَخَذَ فرمایا: تم اپنے ساتھ مچھلی لے لو اور وہ ٹوکری میں حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ ثُمَّ انْطَلَقَ، رکھ لو۔پھر جہاں وہ مچھلی تم سے کھو جائے تو وہ وَانْطَلَقَ مَعَهُ بِفَتَاهُ يُوشَعَ بن نُونٍ وہیں ہو گا۔چنانچہ موسیٰ نے مچھلی ٹوکری میں رکھ لی اور چل پڑے۔اور اپنے ساتھ اپنے نوجوان حَتَّى إِذَا أَتَيَا الصَّخْرَةَ وَضَعَا رُءُوسَهُمَا یوشع بن نون کو بھی لے لیا۔جب وہ دونوں چٹان فَنَامَا، وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَل کے پاس پہنچے، ستانے کے لئے ) اپنے سر کائے فَخَرَجَ مِنْهُ فَسَقَطَ فِي الْبَحْرِ فَاتَّخَذَ اور سو گئے اور مچھلی ٹوکری میں تڑپنے لگی اور اس سَبِيلَةَ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا (الكهف : ٦٢) سے نکل کر سمندر میں جاگری اور تیزی سے بھاگتے وَأَمْسَكَ اللهُ عَنِ الْحُوتِ جِرْيَةَ الْمَاءِ ہوئے سمندر میں اپنی راہ لی ، اور اللہ نے اس مچھلی فَصَارَ عَلَيْهِ مِثْلَ الطَّاقِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ سے پانی کا بہاؤ روک دیا اور پانی مچھلی پر محراب کی طرح ہو گیا۔جب موسیٰ جاگے تو اُن کا ساتھ نَسِيَ صَاحِبُهُ أَنْ يُخْبِرَهُ بِالْحُوتِ، مچھلی کی نسبت انہیں بتانا بھول گیا۔وہ دونوں فَانْطَلَقَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتِهِمَا، حَتَّى باقی دن اور رات بھی چلتے رہے، یہاں تک کہ إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ قَالَ مُوسَى لِفَتْهُ جب دوسرا دن ہوا۔موسیٰ نے اپنے نوجوان سے اتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا کہا: ہمارا ناشتہ ہمارے پاس لاؤ۔ہم تو اس سفر سے بہت تھک گئے ہیں۔(حضرت ابن عباس) نَصَباً (الكهف: ٦٣) قَالَ وَلَمْ يَجِدْ کہتے تھے : موسیٰ نے اس وقت تک تھکان محسوس مُوسَى النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَا الْمَكَانَ نہیں کی جب تک کہ وہ اس جگہ سے نہیں گزر الَّذِي أَمَرَ اللهُ بِهِ، فَقَالَ لَهُ فَتَاهُ گئے کہ جس کی بابت اللہ نے فرمایا تھا۔ان اروَيْتَ إِذْ اَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَانّی کے نوجوان نے ان سے کہا کہ بتائیے (اب