صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 557
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۵۷ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف ليد حضُوا : تا وہ پھیلا دیں۔ ابو عبیدہ نے لِیدُ حِضُوا کے معنی لِيُزِيلُوا کئے ہیں۔ پھیلا دیں، ہٹا دیں۔ لفظ زلق بھی انہی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ کہتے ہیں : مَكَانَ دَحَضٌ أَي مُزِلٌ مُزْلِقُ لَا يَثْبُتُ فِيهِ خُفْ وَلَا حَافِرٌ - یعنی ایسی جگہ جس سے انسان یا حیوان پھسل جائے اور کوئی شے بھی اس پر نہ ٹھہر سکے ۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۱۹) بَاب ۲ : وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتْهُ لَا أَبْرَحُ حَتَّى ابْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا (الكهف : (٦١) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنے نوجوان (رفیق) سے کہا تھا (کہ) میں (جس راستے پر جارہا ہوں اس پر قائم رہنے سے ) نہیں ٹلوں گا یہاں تک کہ ان دونوں سمندروں کے اکٹھے ہونے کے مقام پر پہنچ جاؤں یا صدیوں تک (آگے ہی آگے ) چلتا جاؤں زَمَانًا وَجَمْعُهُ أَحْقَابٌ۔ ( حقبا کے معنی ہیں) زمانا یعنی زمانہ ۔ اور اس کی جمع أَحْقابٌ ہے۔ ٤٧٢٥ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۴۷۲۵: حمیدی (عبد اللہ بن زبیر ) نے ہم سے سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ عمرو بن دینار نے ہم سے بیان کیا، کہا: سعید بن جبیر نے مجھے بتایا، وہ کہتے تھے کہ میں نے حضرت لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبِكَالِيَّ يَزْعُمُ ابن عباس سے کہا: نوف بکالی سمجھتے ہیں کہ خضر أَنَّ مُوسَى صَاحِبَ الْخَضِرِ لَيْسَ هُوَ والے موسیٰ وہ نہیں جو بنی اسرائیل والے موسیٰ مُوسَى صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ تھے۔ حضرت ابن عباس نے یہ سن کر کہا: اللہ کے ابْنُ عَبَّاسٍ كَذَبَ عَدُوٌّ اللَّهِ، حَدَّثَنِي دشمن نے غلط کہا ہے۔ حضرت ابی بن کعب نے أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی علیکم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ سے سنا۔ آپؐ نے فرمایا: موسیٰ بنی اسرائیل سے خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ ان سے مُوسَى قَامَ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، پوچھا گیا: لوگوں میں سے کون زیادہ عالم ہے۔ فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ فَقَالَ أَنَا۔ انہوں نے کہا: میں۔ اللہ نے اُن پر ناراضگی کا فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، اظہار کیا کہ انہوں نے علم کو اللہ کی طرف کیوں