صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 36
صحیح البخاری جلد ۱۰ رَضِيَ Fy ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بتایا۔انہوں نے یحی بن ابی کثیر سے، يحيی نے عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ابوسلمہ سے ، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَهْلَ الْكِتَابِ الله عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اہل يَقْرَءُوْنَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ وَيُفَسّرُونَهَا کتاب تورات کو عبرانی میں پڑھا کرتے تھے اور بِالْعَرَبِيَّةِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ مسلمانوں سے اس کا مفہوم عربی زبان میں بیان صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ کرتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِبُوهُمْ قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ اہل کتاب کی نہ تم تصدیق کرو اور نہ ان کی وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا (البقرة: ١٣٧) الْآيَةَ۔تکذیب، اور یہ کہو : ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس پر بھی جو ہماری طرف نازل کیا گیا۔أطرافه: ٧٣٦٢ ٧٥٤٢ - يح : قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا: معنونہ آیت ۱۳۷ نیز آیت ۱۳۸ ایسی اصولی تعلیم پر مشتمل ہیں جس سے مذاہب عالم کے اختلاف مٹ سکتے ہیں۔چنانچہ فرمایا: وَ إِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ في شقاق (البقرة: ۱۳۸) اگر وہ اس تعلیم سے روگردانی کریں گے تو وہ پھوٹ میں رہیں گے۔روایت زیر باب سے متعلق امام شافعی نے وضاحت کی ہے کہ ارشادِ نبوی سے یہ مراد نہیں کہ جو بات شریعت اسلامیہ کے مطابق ہو اس میں بھی ان کی تصدیق نہ کی جائے۔اسی طرح جو اس کے خلاف ہو اس کی تکذیب نہ ہو۔بلکہ اس سے مراد مشتبہ ، ظنی و غیر معقول باتیں ہیں جو وہ اپنی کتابوں سے بیان کریں، انہیں سن کر خاموش رہو۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۱۴) لیکن باوجود اس قیمتی ہدایت کے نام نہاد تفسیروں میں حضرت عیسی علیہ السلام وغیرہ سے متعلق نا معقول روایتیں نقل کی گئی ہیں۔یہاں تک کہ عوج بن عنق کی خرافات بھی۔قرآن مجید میں ہمیں صراحت سے متنبہ کیا گیا ہے کہ مبادہ یہود مسلمانوں کو وحی الہی سے برگشتہ کر دیں اور اس برگشتگی کا ایک طریق یہ ہے کہ لغویات سنا کر سننے والوں کا ذہن ماؤف کر کے صحیح عقائد مسخ کر دیئے جائیں۔فرماتا ہے: وَإِن كَادُوا لَيَفْتِنُونَكَ عَنِ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَةَ * وَإِذَا لَّا تَخَذُوكَ خَلِيلًا ) ( بنى اسرائیل: ۷۴) اور قریب تھا کہ اس ( کلام) کی وجہ سے جو ہم نے تجھ پر وحی سے نازل کیا ہے وہ تجھے (سخت سے سخت) عذاب میں مبتلا کرتے تاکہ تو ( اس سے ڈر کر ) اس ( کلام) کے سوا کچھ اور (کلام اپنے پاس سے ) بنا کر ہماری طرف منسوب کر دے اور (اگر تو ایسا کرتا تو ) اس صورت میں وہ یقینا تجھے (اپنا) گہرا دوست بنالیتے۔اس آیت میں یہود کے بد ارادوں سے آگاہ کیا گیا ہے اور اگلی آیت میں بتایا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ وحی صحیح آپنی کی طرح گاڑ دی گئی ہے۔لوگوں کے ذہنوں کو وہ بگاڑ سکتے ہیں، مگر اس کلام میں تصرف نہیں کر سکیں گے۔1۔(تفسير ابن كثير، سورة المائدة آيت : قَالُوا مُوسَى إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِينَ، جزء ۳ صفحه ۶۸)