صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 556 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 556

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۵۶ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف ہمیشہ رہی ہے کہ مؤاخذہ اور سزا سے پہلے آگاہ کرتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اسی سنت کے پیش نظر مامورِ زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق فرمایا: ”دنیا میں ایک نذیر آیا، پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ (تذکرہ صفحہ ۸۱) عیسائیوں کی نسبت جس تباہی کا ذکر سورۃ الکہف (آیات ۲۹ تا ۴۵) میں کیا گیا ہے۔ان آیات میں الشاعة سے مراد یہی تباہی کی گھڑی ہے جس سے دنیا کو بروقت آگاہ کیا گیا ہے۔مزید تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر جلد ۴ ، صفحه ۴۴۲ تا ۴۵۵ هُنَالِكَ الْوَلايَةُ : وَلايَةٌ مصدر ہے۔وَلي عَلى وَلَايَةٌ وَوَلا بمعنی سر پرستی، دوستی اور یاوری۔پوری آیت یہ ہے: هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلهِ الْحَقِّ - هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَ خَيْرٌ عُقْبان (الكهف: ۴۵) اس آیت سے متعلقہ سیاق کلام میں بڑی وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ جب تباہی کی گھڑی آئے گی تو کوئی جتھا مدد نہ کر سکے گا۔وَلَمْ تَكُن لَّهُ فِئَةٌ يَنْصُرُونَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مُنتَصِران (الكهف: (۴۴) آیت نمبر ۴۵ میں عقبا کا جو لفظ بیان ہوا ہے اس کے معنی انجام ہیں۔عقبا سے مراد روز قیامت ہے جب اعمال کا محاسبہ ہو گا تو نیکو کاروں کو اچھے سے اچھا بدلہ ملے گا جیسا کہ آیت میں بیان کیا گیا ہے۔الولایة کی قراءت سے متعلق اختلاف ہوا ہے۔جمہور کی قراءت الْوَلَايَةُ (واؤ کی زبر سے) ہے اور بعض نے الْوِلايَةُ ( واؤ کی زیر سے) پڑھا ہے۔ابو عمرو اور اصمعی نے یہ قراءت قبول نہیں کی اور بتایا ہے کہ زیر سے الولایة کے معنی امارت کے ہیں، جس کا یہاں محل نہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۱۹) قبلاً : آنکھوں کے سامنے۔فرماتا ہے: وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَى وَيَسْتَغْفِرُوا رَبَّهُمْ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُم سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قبلا (الكهف: ۵۶) اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے اور اپنے رب سے بخشش چاہنے سے صرف اس بات نے روک دیا کہ پہلے لوگوں کا ساماجرا انہیں بھی پیش آئے یا پھر عذاب ان کے سامنے آجائے۔لفظ قبلا کی قراءت سے متعلق بھی اختلاف ہوا ہے۔بعض نے قبلًا پڑھا ہے جس کے معنی ہیں استئنافا، یعنی نئے سرے سے۔لیکن ابن الستین کی رائے ہے کہ اس کا یہاں موقع نہیں ہے۔بلکہ یہ لفظ استقبال کے مفہوم میں یہاں بیان ہوا ہے جس کا تلفظ قبلا ہے۔یعنی عذاب اپنے سامنے سے آتا دیکھیں گے اور یہ قراءت جمہور کی ہے۔بعض نے قبلا کو بھی اس مفہوم میں سمجھا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۱۹) ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : " اس وقت اختیار کلیۂ اللہ ہی کا تھا جو حق ہے وہ جزا د ینے میں بھی اچھا اور نیک انجام تک پہنچانے میں بھی اچھا ہے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع ” اور اُس کے لئے کوئی جماعت نہ تھی جو اللہ کے مقابل پر اس کی مدد کر سکتی اور وہ کسی قسم کا انتقام نہ لے سکا۔“