صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 555 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 555

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۵۵ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف ہے: لَكِنَّا هُوَ اللهُ رَبِّي وَلَا تُشْرِكُ بِرَبِّي أَحَدًان (الكهف: ٣٩) (تمہارا تو یہ حال ہے) لیکن ( میں تو یہ کہتا ہوں کہ حق تو یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں کسی کو ( بھی ) اپنے رب کا شریک نہیں بناتا۔سیاق کلام میں دونوں آیتوں کا یہ مفہوم ہے کہ بغیر اتمام حجت کے عیسائی قومیں ہلاک نہیں کی جائیں گی۔کتاب الانبیاء ( باب ۴۹) میں گزر چکا ہے کہ ان قوموں پر اتمام حجت قائم کرنے کے لئے ابن مریم نازل ہو گا۔وَفَجَّرُنَا خِللَهُمَا نَهَرًا : لفظ فَجَّرُنَا کی دو قراء تیں ہیں، ایک ج بغیر تشدید کے جو یعقوب و عیسی بن عمر قاری کی ہے، دوسری ج مشدد کے ساتھ جو جمہور کی قراءت ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۱۹) اسی اختلاف قراءت کے پیش نظر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ لفظ ج کی شد کے ساتھ فجرنا پڑھا جانا چاہیے۔آیت كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ أَتَتْ أَكَلَهَا سے پہلے یہ آیت ہے: وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا رَّجُدَيْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابِ وَ حَفَقْنَهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرگاه (الکھف:۳۳) اور تو اُن کے لئے دو شخصوں کی مثال بیان کر۔جن میں سے ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دیئے تھے اور ان باغوں کو ہم نے کھجوروں کے درختوں کی باڑ سے محفوظ کیا تھا اور ان دونوں باغوں کے درمیان کھیتی بھی اگائی تھی۔آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہ تمثیل بیان کی گئی ہے جو تورات و انجیل میں بھی بیان کی گئی ہے۔(متی باب ۳۳،۲۸:۲۱) اور اس سے مراد مملکت ہے یعنی عیسائی قوم کے لئے ترقی و تنزل کے دو دُور ہیں۔ایک وہ دور ترقی جو اسلام سے قبل تھا، جس میں ان کی مملکت باز نطینی کے نام سے تاریخ عالم میں مشہور ہے اور دوسرا دور ترقی وہ ہے جو موجودہ زمانے میں انہیں ملا ہے۔اس میں انہیں بہت بڑا عروج حاصل ہوا ہے۔ان دو دوروں کے درمیان عیسائی حکومتیں باقی رہیں لیکن معمولی حیثیت میں جسے مذکورہ بالا تمثیل میں کھیتی قرار دیا گیا ہے۔آیت نمبر ۳۶ تا ۴۴ میں ان کی تباہی کی خبر ہے اور یہ تباہی اس وقت ہو گی جب انہیں دہم تک نہیں ہو گا کہ وہ تباہ ہو سکتے ہیں۔آیت نمبر ۴۳ میں فرماتا ہے: وَ أحِيطَ بِثَمَرِهِ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَيْهِ عَلَى مَا انْفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَ يَقُولُ يَدَيْتَنِي لَمْ أَشْرِكْ بِرَبِّ أَحَدًاں اور اس کے تمام پھلوں کو تباہ کر دیا گیا اور وہ ( باغ کا مالک ) لگا اپنے دونوں ہاتھ ملنے اس پر جو اس نے اپنے باغ پر خرچ کیا تھا اور وہ انگوروں کا باغ اپنے سہاروں کے بل گرا ہوا تھا اور وہ کہہ رہا تھا ہائے کاش میں کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ ٹھہراتا۔اور آیت نمبر ۴۱، ۴۲ میں بتایا گیا ہے کہ یہ اس کی تباہی کی تدبیر آسمان سے ہو گی اور اس کا ساختہ و پر داختہ راکھ کرنے کے لئے آگ کے شعلے آسمان سے گرائے جائیں گے اور اس کی زمینی طاقتیں سب سلب کر دی جائیں گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فعسى ربى أَنْ يُؤْتِيَنِ خَيْرًا مِنْ جَنَّتِكَ وَيُرْسِلَ عَلَيْهَا حُسْبَانًا مِنَ السَّمَاءِ فَتُصْبِحَ صَعِيدً ا زَلَقَاتِ أَوْ يُصْبَحَ مَاؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِيعَ لَهُ طَلَبات (الکھف: ۴۱، ۴۲) اُمید ہے کہ میرا رب تیرے باغ سے بھی کوئی بہتر باغ مجھے دے اور تیرے باغ پر آسمان سے آگ کا شعلہ گرائے جس سے وہ ایک صاف چٹیل میدان ہو جائے۔یا اس کا پانی خشک ہو جائے۔پھر تو اسے تلاش نہ کر سکے۔خدا تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اور اس کی یہ سنت