صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 554
صحيح البخاری جلد ۵۵۴ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف صبح و شام پکارتے ہیں۔اور تیری نظریں ان کو پیچھے چھوڑ کر آگے نہ نکل جائیں ( اور اگر تو ایسا کرے گا تو) تور لی زندگی کی زینت چاہے گا اور جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہو اور اس نے اپنی گری ہوئی خواہش کی پیروی اختیار کی ہو اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہو ، اس کی فرمانبرداری مت کر۔سُرَادِقُهَا : سُرَادِق کے معنی ہیں چار دیواری جو بڑے خیمے کے ارد گرد کھینچی جاتی ہے۔یہ معنی ابو عبیدہ سے منقول ہیں۔جس کی تائید میں انہوں نے اس مصرعہ کا حوالہ دیا ہے : سُرَادِقُ الْمَجْدِ عَلَيْكَ مَمْدُود۔عظمت کی قناتیں تیرے ارد گرد تائی گئی ہیں۔طبری نے حضرت ابن عباس سے حائط من نار کے معنی نقل کئے ہیں۔یعنی آگ کی چار دیواری اُن کو گھیرے گی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۱۹) پوری آیت یہ ہے: وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَ مَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّلِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۖ وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا ( الكهف : ۳۰) اور کہہ یہ سچائی تیرے رب کی طرف سے ہی (نازل) ہوئی ہے۔پس جو چاہے اس پر ایمان لائے اور جو چاہے انکار کر دے۔ہم نے ظالموں کے لئے یقینا ایک آگ تیار کی ہے جس کی چار دیواری انہیں گھیرے گی اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریادرسی کی جائے گی جو کھولتے ہوئے تانبے کی طرح نہایت شدید گرم ہو گا، چہروں کو جھلس دے گا۔وہ بہت ہی بری پینے کی چیز ہو گی اور یہ آگ نہایت ہی بُر اٹھکانہ ہے۔خلاصہ اس آیت کا یہ ہے کہ یہ آگ چاروں طرف سے اس طور پر گھیرے میں لے گی کہ انہیں کوئی راہ فرار نہیں ملے گی۔اس سے موعودہ عذاب کی نوعیت بتائی گئی ہے جو عیسائی اقوام کے لئے مقدر ہے اور آج ہم اس عذاب کو پورے طور پر متمثل ہوتے دیکھ رہے ہیں۔بولہی آتشین جنگوں کی شدت کا تصور کرنا بھی ہمارے لئے مشکل ہے۔يُحَاوِرُه : یہ لفظ مُحَاوَرَةٌ سے ہے، یعنی مکالمہ و مخاطبہ کی صورت میں گفتگو کرنا۔اس لفظ سے یہ آیت مراد ہے: قَالَ لَهُ صَاحِبُه وَ هُوَ يُحَاوِرُةَ اكَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوكَ رَجُلًا ) (الکھف: ۳۸) اس کے ساتھی نے اس سے سوال وجواب کرتے ہوئے کہا (کہ) کیا تو نے اُس (ہستی) کا انکار کر دیا ہے جس نے تجھے (اولاً) مٹی سے (اور) پھر نطفہ سے پیدا کیا اور پھر اُس نے تجھے پورا آدمی بنایا۔یہ بات کرنے والا مسلمان نمائندہ اسلام ہے۔لكِتَا هُوَ اللهُ ربي : لکنا اور اصل لکن آتا ہے۔دونوں الفاظ ترکیب پا کر لکھنا ہوا۔ابو عبیدہ نے اس تعلق میں یہ شعر نقل کیا ہے: وَتَرْمُقنِي بِالظَّرْفِ أَى أَنتَ مُذنب وَتَقْلِينَنِي لَكِنْ إِيَّاكِ لَا أَقْلِي اس شعر میں عبارت اصل میں یوں ہے : لكن انا ايَّاكِ لا اقلی۔یعنی تو مجھے ایسی نظر سے دیکھتی ہے کہ میں خطا کار ہوں اور مجھ سے تو نفرت کرتی ہے۔لیکن میں تجھ سے نفرت نہیں کرتا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۱۹) پوری آیت یہ