صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 553
صحيح البخاری جلد ۱۰ لِيُزِيلُوا الدَّحْضُ الزَّلَقُ۔۵۵۳ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف قبلا، قبلا اور قبلا تینوں طرح ہی پڑھا گیا ہے۔یعنی نئے سرے سے سامنے سے آتا ہوا۔لید حضوا کے معنی ہیں تا اس کو پھسلا دیں۔التخضُ کے معنی ہیں پھسلنا یا پھسلانا۔تشريح : وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جدلا : امام ابن حجر نے اس باب سے امام بخاری کی غرض کی بابت لکھا ہے کہ واضح نہیں۔حسب عادت ابہام و اخفاء سے کام لیا گیا ہے۔اس تعلق میں ان کے یہ الفاظ ہیں: وَلَمْ يَذْكُرْ مَقْصُودَ الْبَابِ عَلَى عَادَتِهِ فِي التَّعْمِيَة۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۱۸) روایت زیر باب اس سے قبل کتاب التهجد، باب ۵ میں مع شرح گزر چکی ہے۔جہاں بتایا جاچکا ہے کہ حضرت علی تہجد کے لئے نہ اٹھ سکنے کے متعلق عذر کرنے لگے کہ ہماری جانیں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں، جب چاہتا ہے ہمیں بیدار کر دیتا ہے وغیرہ۔یہ درست ہے کہ ہر شے اللہ تعالیٰ کے اختیار و تصرف میں ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی امر واقعہ ہے کہ انسان کو ارادہ و قوت عمل عطا ہوا ہے۔جو پختہ عزم کر لیتا ہے اور دعاؤں سے مزید مدد حاصل کرتا ہے، وہ ضرور توفیق پاتا ہے۔یہاں جس آیت سے یہ باب قائم کیا گیا ہے، وہ یہ ہے: وَلَقَدْ صَرَفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلِ وَ كَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ه (الکھف:۵۵) اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر اعلیٰ بات مختلف پیر اؤں میں بیان کر دی ہے ( اور یہ اس لئے کیا گیا ہے) کہ انسان سب سے بڑھ کر بحث کرنے والا ہے۔اس آیت کا سارا سیاق کلام ہی انسان کی کج بحثی کے متعلق ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام کے بارہ میں کج بحثی سے کام لینا در حقیقت اس کی رحمت بے پایاں سے اپنے آپ کو محروم کرنا ہے۔معمولی معمولی عذروں سے اس کے احکام پر عمل نہ کرنا اور انہیں ٹالتے چلے جانے کا آخر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو ہلاک کر لیتا ہے۔یہی حال عیسائی قوموں کا ہو گا۔وَ جَعَلْنَا لِيَهْلِهِمْ قَوْعِدًا (الکھف: ۶۰) اور ہم نے اُن کی ہلاکت کے لئے پہلے سے ایک میعاد مقرر کر دی تھی (تا وہ چاہیں تو تو بہ کر لیں۔) غرض یہ وہ سیاق کلام ہے جس کی طرف توجہ دلانے کے لئے یہ باب قائم کیا گیا ہے اور تباہی کی موعودہ گھڑی کی نسبت سورۃ الکہف سے متعلقہ آیات کا حوالہ دیا گیا ہے جو حسب ذیل ہے: فُرُطًا : نَدَما - ندامت، پشیمانی۔یہ معنی طبری نے داؤد بن ابی ہند کی سند سے نقل کئے ہیں اور ابو عبیدہ نے اس کے معنی اسراف وضیاع بتائے ہیں۔یہی معنی طبری نے مجاہد سے بھی نقل کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۱۹،۵۱۸) پوری آیت یہ ہے۔وَاصْبِرُ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدْوَةِ وَالْعَشِي يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ولا تعد عَيْنَكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الحَيوةِ الدُّنْيَا وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوبِهُ وَكَانَ آمُرُه فُرُطان (الکھف: ۲۹) اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھ جو اپنے رب کو اس کی خوشنودی چاہتے ہوئے