صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 552 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 552

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۵۲ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ أَخْبَرَهُ عَنْ عَلِيّ بن حسین نے مجھے بتایا کہ حضرت حسین بن علی اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ قَالَ ہوئے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ رَضِيَ أَلَا تُصَلِّيَانِ۔علیہ وسلم ان کے اور حضرت فاطمہ کے پاس رات کو آئے۔آپ نے فرمایا: کیا تم دونوں نماز أطرافه: ١١٢٧، ٧٣٤٧، 7465۔۔(تہجد) نہیں پڑھتے ؟ رجما بِالْغَيْبِ (الكهف: ٢٣) لَمْ رَجْمًا بِالْلغیب کے معنی ہیں بات اچھی طرح نہ سمجھی يَسْتَبِنْ فُرُطًا (الكهف: ۲۹) نَدَما اور یونہی بیان کر دی۔فرگا کے معنی ہیں ندامت، سُرَادِقُهَا (الكهف: ۳۰) مِثْلُ السُرَادِقِ شرمندگی۔سُرَادِقھا سے مراد یہ ہے کہ (آگ وَالْحُجْرَةِ الَّتِي تُطِيفُ بِالْفَسَاطِيطِ انہیں گھیرے ہوئے ہو گی ) دیواروں اور کمرے يُحَاوِرُة ( الكهف: ۳۸) مِنَ الْمُحَاوَرَةِ کی طرح یعنی (ایسی قناتیں) جو بڑے خیمے کے لْكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي (الكهف: ٣٩) أَيْ لَكِنْ ارد گرد ہوتی ہیں۔يُحاوِرکا یعنی وہ اس سے رُوبرو أَنَا هُوَ اللهُ رَبِّي ، ثُمَّ حَذَفَ الْأَلِف بات کر رہا تھا۔یہ لفظ محاورہ سے ہے بمعنی گفتگو۔لكِنَّا هُوَ اللهُ رَبِّی۔لیکن میں تو یہ کہتا ہوں: حق تو یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب ہے۔پھر الف کو حذف وَأَدْغَمَ إِحْدَى النُّونَيْنِ فِي الْأُخْرَى۔وَفَجَّرُنَا خِللَهُمَا نَهَرًا (الكهف: ٣٤) کر دیا اور اس کی ایک نون کو (لکن کی) دوسری تَقُولُ بَيْنَهُمَا نَهَرًا۔زَلَقًا (الكهف: ٤١) نون میں مدغم کر دیا۔وَفَجَّرْنَا خِلْلَهُمَا نَهَرًا۔یعنی لَا يَثْبُتُ فِيهِ قَدَمٌ هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ تم کہو اور اُن کے درمیان ہم نے ایک نہر جاری (الكهف: ٤٥) مَصْدَرُ وَلِيَ الْوَلِيُّ کی تھی۔ذلفا وہ جگہ جس پر قدم نہ جم سکے۔وَلَاءٌ عُقُبًا (الكهف: ٤٥) عَاقِبَةً هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ (میں الْوَلَايَةُ) وَلی سے مصدر وَعُقْبَى وَعُقْبَةً وَاحِدٌ وَهِيَ الْآخِرَةُ۔ہے- الْولی کے معنی ہیں حکومت و سر پرستی۔قِبَلًا وَقُبلا (الكهف: ٥٦) وَقَبَلًا عُقْبًا، عَاقِبَةٌ ، عُقْبَی اور عُقْبَةٌ مفہوما ایک ہی اسْتِثْنَافًا لِيُدحِضُوا (الکھف: ٥٧) ہیں۔(اس کے معنی ہیں انجام ) اور یہ آخرت ہے۔