صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 551 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 551

۵۵۱ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف صحيح البخاری جلد ۱۰ مِنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَ بِكُمُ احَدان (الکھف:۲۰) اپنے میں سے کسی کو اس سکے کے ساتھ شہر کی طرف بھیجو تا وہ دیکھے اس شہر میں سے کس کا نلہ زیادہ اچھا ہے۔(جس کا غلہ سب سے زیادہ اچھا ہو ) اس سے کچھ کھانے کا سامان لے آئے اور لوگوں کے ساتھ نرمی اور مہربانی سے پیش آئے اور تمہارے متعلق کسی کو علم نہ ہونے دے۔مويلاً : مُحْرِزًا، بمعنى المجاو ماوی و پناہ گاہ ہے۔مرجع یعنی جائے رجوع بھی اس کے معنی ہیں۔وَأَلَ يَيْلُ إِذَا لَجَأَ إِلَيْهِ يَلْجَأُ - لفظ مَوْبِلا وآل بیل سے ظرف مکان ہے، یعنی نجات پانے کی جگہ۔ان معنوں کی تائید میں ایک شاعر کا یہ مصرعہ نقل کیا ہے: فَلَا وَأَلَتْ نَفْسُ عَلَيْهَا تُحاذِرُ ـ أى لا تجت۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۱۸) یعنی نجات نہ پائے وہ نفس جس کے متعلق تو ڈر رہا ہے۔فرماتا ہے: وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ لَوْ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُوا لعَجَلَ لَهُمُ الْعَذَابَ - بَلْ لَّهُمْ مَوْعِدُ عَنْ يَجِدُوا مِن دُونِهِ مَوْ بِلا (الكهف:۵۹) اور تیرارب بہت ہی بخشنے والا (اور بہت ہی ) رحمت کرنے والا ہے۔اگر وہ ان کے (برے اعمال کی وجہ سے انہیں ہلاک کرنا چاہتا تو وہ ان پر فوراً عذاب نازل کر دیتا۔( مگر وہ ایسا نہیں کرتا ) بلکہ ان کے لیے ایک میعاد (مقرر ) ہے جس سے ورے (یعنی پیشتر اس کے کہ وہ عذاب کو بھگت لیں) وہ ہر گز کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔لا يَسْتَطِيعُونَ سَبْعًا: لَا يَعْقِلُونَ۔عقل سے کام نہیں لیتے۔اس آیت کا یہ مفہوم فریابی نے مجاہد سے نقل کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۱۸) اس سے اشارہ آیت الَّذِيْنَ كَانَتْ أَعْيُنَهُمْ فِي غِطَاء عَنْ ذِكْرِئُ کی طرف ہے۔پورا سیاق کلام یہ ہے: وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَيذٍ لِلْكَفِرِينَ عَرُضَاتِ الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاء عَنْ ذِكْرِى وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَعَان (الکھف: ۱۰۱، ۱۰۲) اور ہم اس دن جہنم کو کافروں کے بالکل سامنے لے آئیں گے۔(وہ کا فر) جن کی آنکھیں میرے ذکر (یعنی قرآن کریم) کی طرف سے (غفلت کے) پردہ میں تھیں۔اور وہ سننے کی طاقت (بھی) نہیں رکھتے تھے۔یہ آیات عیسائی اقوام کی موجودہ حالت کفر اور پرلے درجے کی غفلت اور دین سے لاپرواہی پر پورے طور پر منطبق آتی ہیں۔بَاب ۱ : وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا (الكهف : ٥٥) اور انسان ہر شے سے بڑھ کر جھگڑالو ہے ٤٧٢٤ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۴۷۲۴: علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا کہ یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ (انہوں نے کہا: ) میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ انہوں نے صالح بن کیسان) سے، صالح نے قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: علی شِهَابٍ