صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 550 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 550

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۵۰ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف جو لوگ سنتے ہیں وہی بات کو قبول کرتے ہیں اور (جو) مُردے (ہیں) اللہ انہیں اُٹھائے گا پھر انہیں اسی کی طرف لوٹایا جائے گا۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم میں مردہ کا لفظ حق سے محروم کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ کفار کا حق کی طرف رجوع کرنا اور اسے قبول کرنا ہی ان کی روحانی زندگی کا باعث ہے۔ اور انہی معنوں میں سورۃ الحج میں فرماتا ہے : ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِ الْمَوْتَى وَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَ أَنَّ السَّاعَةَ أُتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَ أَنَّ اللهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ (الحج: ۸،۷) یہ اس لئے ہوتا ہے کہ ( ظاہر کیا جائے کہ ) اللہ ہی قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی ہستی ہے اور وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اور ہر چیز کے لئے جو وقت مقرر ہے وہ ضرور آکر رہے گا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں اور اللہ یقیناً اُن کو جو قبروں میں ہیں دوبارہ اُٹھائے گا۔ اس آیت میں بھی قوم کی روحانی بعثت مراد ہے۔ علماء جامدین نے ایک ہی تاویل پر اصرار کیا ہے جس کا ذکر امام ابن حجر نے مذکورہ بالا الفاظ میں کیا ہے۔ اصحاب کہف کے لئے جو بعثنا کا لفظ بیان ہوا ہے اُس میں ان کی اجتماعی زندگی کا ذکر ہے کہ انہیں گوشہ گمنامی اور پستی سے اُٹھایا اور ترقی دی۔ فرماتا ہے : فَضَرَبْنَا عَلَى أَذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًا ثُمَّ بَعَثْنَهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْطَى لِمَا لَبِثُوا أَمَدًا (الكهف : ۱۲، ۱۳) یعنی جس پر ہم نے اس وسیع غار میں چند گنتی کے سالوں کے لیے انہیں (بیرونی حالات کے ) سننے سے محروم کر دیا۔ پھر ہم نے اُنہیں اُٹھایا، تا کہ ہم جان لیں کہ جتنی مدت وہ (وہاں) ٹھہرے رہے تھے ، اُسے ( مسیح کے متبع ) دونوں گروہوں میں سے ز ادونوں گروہوں میں سے زیادہ محفوظ رکھنے والا کونسا گروہ ہے۔ عربی میں لفظ آمدا غیر معین عرصے پر دلالت کرتا ہے اور ابدا غیر محدود زمانے پر۔ دو گروہوں سے مراد ابتدائی زمانے کے مسیحی اور بعد کے مسیحی لوگ ہیں۔ دونوں گروہوں کے حالات کا مقابلہ کرنے سے صحیح طور پر معلوم ہو سکتا ہے کہ کون اپنے خالق کا شناسا اور قدر دان تھا۔ وہ گروہ جس نے انتہائی تلخیاں جھیلیں اور اپنے خالق کے شکر گزار اور اس سے وابسطہ رہے یا وہ جنہیں کشائش و آسائش کے سامان میسر آئے اور پھر انہوں نے ناشکر گزاری کی اور غیر اللہ کو پوجنا شروع کر دیا۔ اس تعلق میں تفسیر کبیر جلد چہارم (صفحہ نمبر ۴۱۸ تا ۴۴۲) کا مطالعہ ضروری ہے جہاں مسلمان مفسرین اور عیسائی مورخین کے حوالے سے ان کے اقوال نقل کئے گئے ہیں اور اصحاب الکہف سے متعلق محققانہ قیمتی معلومات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے جس سے زیر شرح آیت کا مضمون واضح ہو جاتا ہے۔ از کی طَعَامًا کے معنی ہیں أَكْثَرُ رَیعا اور أَحَل یعنی کھانے کے اعتبار سے وہ زیادہ مفید اور حلال اور بکثرت ہے۔ ۔ اس اس آن آیت کے مفہوم میں میں اختلاف ا متعد د روایتوں کی وجہ سے ہے۔ حضرت ابن عباس سے أَحَلُّ أَحَلُّ ذَبِيحَة مروى ہے کہ مشرک اپنے دیوتاؤں کے نام پر ذبح کرتے تھے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۱۷) ایسی قربانیاں حلال نہیں تھیں اور آپ کی کی تعریف سے خارج ہیں۔ غذائیت کے لحاظ سے زیادہ پاکیزہ کا مفہوم درست ہے جو سیاق کلام سے واضح ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے: فَابْعَثُوا أَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمُ هَذِةٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنْظُرُ أَيُّهَا أَزْلَى طَعَامًا فَلْيَأْتِكُمُ بِرِزْقٍ