صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 550
۶۵ - كتاب التفسير / الكهف صحیح البخاری جلد ۱۰ جو لوگ سنتے ہیں وہی (بات کو) قبول کرتے ہیں اور (جو) مردے (ہیں) اللہ انہیں اُٹھائے گا پھر انہیں اسی کی طرف لوٹایا جائے گا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم میں مردہ کا لفظ حق سے محروم کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔کفار کا حق کی طرف رجوع کرنا اور اسے قبول کرنا ہی ان کی روحانی زندگی کا باعث ہے۔اور انہی معنوں میں سورۃ الج میں فرماتا ہے: ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْلَى وَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ وَ أَنَّ السَّاعَةَ انِيَةً لَا رَيْبَ فِيهَا وَ أَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ O (الحج ۸،۷) یہ اس لئے ہوتا ہے کہ ( ظاہر کیا جائے کہ اللہ ہی قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی ہستی ہے اور وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۔اور ہر چیز کے لئے جو وقت مقرر ہے وہ ضرور آکر رہے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں اور اللہ یقینا ان کو جو قبروں میں ہیں دوبارہ اُٹھائے گا۔اس آیت میں بھی قوم کی روحانی بعثت مراد ہے۔علماء جامدین نے ایک ہی تاویل پر اصرار کیا ہے جس کا ذکر امام ابن حجر نے مذکورہ بالا الفاظ میں کیا ہے۔اصحاب کہف کے لئے جو بعثنا کا لفظ بیان ہوا ہے اُس میں ان کی اجتماعی زندگی کا ذکر ہے کہ انہیں گوشہ گمنامی اور پستی سے اُٹھایا اور ترقی دی۔فرماتا ہے: فَضَرَبْنَا عَلَى أَذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًا ثُمَّ بَعَثْنَهُمْ لِنَعْلَمَ أَثْى الْحِزْبَيْنِ أَحْصَى لِمَا لَبِثُوا أَمَدًا (الکھف: ۱۲ ۱۳) یعنی جس پر ہم نے اس وسیع غار میں چند گفتی کے سالوں کے لیے انہیں (بیرونی حالات کے ) سننے سے محروم کر دیا۔پھر ہم نے انہیں اٹھایا، تاکہ ہم جان لیں کہ جتنی مدت وہ (وہاں) ٹھہرے رہے تھے ، اُسے (صحیح کے متبع ) دونوں گروہوں میں سے زیادہ محفوظ رکھنے والا کونسا گروہ ہے۔عربی میں لفظ آمدًا غیر معین عرصے پر دلالت کرتا ہے اور ایک غیر محدود زمانے پر۔دو گروہوں سے مراد ابتدائی زمانے کے مسیحی اور بعد کے مسیحی لوگ ہیں۔دونوں گروہوں کے حالات کا مقابلہ کرنے سے صحیح طور پر معلوم ہو سکتا ہے کہ کون اپنے خالق کا شناسا اور قدر دان تھا۔وہ گروہ جس نے انتہائی تلخیاں جھیلیں اور اپنے خالق کے شکر گزار اور اس سے وابسطہ رہے یاوہ جنہیں کشائش و آسائش کے سامان میسر آئے اور پھر انہوں نے ناشکر گزاری کی اور غیر اللہ کو پوجنا شروع کر دیا۔اس تعلق میں تفسیر کبیر جلد چہارم (صفحہ نمبر ۴۱۸ تا ۴۴۲) کا مطالعہ ضروری ہے جہاں مسلمان مفسرین اور عیسائی مؤرخین کے حوالے سے ان کے اقوال نقل کئے گئے ہیں اور اصحاب الکہف سے متعلق محققانہ قیمتی معلومات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے جس سے زیر شرح آیت کا مضمون واضح ہو جاتا ہے۔از کی طَعَامًا کے معنی ہیں اس قدریعا اور أَحَل یعنی کھانے کے اعتبار سے وہ زیادہ مفید اور حلال اور بکثرت ہے۔اس آیت کے مفہوم میں اختلاف متعدد روایتوں کی وجہ سے ہے۔حضرت ابن عباس سے أَحَلُ ذَبِيحَةٍ مروی ہے کہ مشرک اپنے دیوتاؤں کے نام پر ذبح کرتے تھے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۱۷) ایسی قربانیاں حلال نہیں تھیں اور آپ کی کی تعریف سے خارج ہیں۔غذائیت کے لحاظ سے زیادہ پاکیزہ کا مفہوم درست ہے جو سیاق کلام سے واضح ہے۔چنانچہ فرماتا ہے: فَابْعَثُوا أَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هَذِةٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنْظُرُ أَيُّهَا أَزْكَى طَعَامًا فَلْيَأْتِكُمْ بِرِزْقٍ