صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 549 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 549

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۴۹ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف الْوَصِید دروازہ کی دہلیز ، آنگن۔غاروں کے زمین دوز کمرے اوپر تلے تہ خانوں کی شکل میں تھے جو دروازوں کے ذریعے ایک دوسرے سے متصل تھے۔خطرے کی آہٹ پاکر وہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں چلے جاتے تھے۔حفاظت کے لئے پالتو کتے رکھے ہوئے تھے جو انہیں قبل از وقت ان کے تعاقب کرنے والوں کی آمد سے خبر دار کر دیتے تھے۔کتوں کی پرورش کے متعلق اب تک ان قوموں میں اہتمام پایا جاتا ہے جو انہیں آباؤ اجداد سے ورثہ میں ملا ہے۔بَعَثْنَاهُمْ : أَحْيَيْنَاهُمْ یعنی ہم نے ان کو زندہ کیا۔لفظ بعد کے معنی اُٹھایا۔روحانی زندگی اور اجتماعی ترقی کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔بعثت انبیاء بھی انہیں معنوں میں ہے۔بَعَثْنَاهُمْ کے معنی أَحْيَيْنَاهُمْ ابو عبيدة سے مروی ہیں۔عبد الرزاق نے عکرمہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اصحاب کہف بادشاہوں کی اولاد تھے جو مذہبی اختلاف کی وجہ سے اپنی قوم سے الگ ہو گئے اور غاروں میں رہنے لگے۔امام ابن حجر نے لکھا ہے کہ لفظ بعث کے معنوں میں اختلاف ہے۔بعض نے کہا: روحانی احیاء مراد ہے اور بعض نے جسمانی اور روحانی دونوں زندگیاں مراد لیں۔لہذا اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ امر سمجھانے کے لیے کچھ عرصہ کے لیے موت دے دی۔اس بارے میں ان کے الفاظ یہ ہیں: فَاخْتَلَفُوا فِي بَعْثِ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ فَقَالَ قَائِلُ يُبْعَثَانِ وَقَالَ قَائِلُ تُبْعَثُ الرُّوحُ فَقَط وَأَمَّا الْجَسَدُ فَتَأْكُلُهُ الْأَرْضُ فَأَمَاءَهُمُ اللهُ ثُمَّ أَحْيَاهُمْ فَذَكَرَ الْقِضَةَ ( فتح البارى جزء ۸ صفحہ ۵۱۷) غرض دونوں قسم کی رائے ہیں۔ان میں سے جو رائے واقعات کے مطابق ہو وہی قابل قبول ہے اور دوسری رائے قابل رڈ۔قرآنِ کریم کی نصوص کے خلاف ہے کہ مردے دنیا میں واپس لوٹائے جائیں۔چنانچہ فرماتا ہے: فِيهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ (الاعراف: ۲۶) یہ خطاب افراد بنی نوع انسان کو ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ کوئی انسان اس زمین سے باہر نہیں جاسکتا۔اسی میں اس کی زندگی اور موت ہے اور بستیوں کی نسبت جو ہلاک ہو چکی ہوں، فرماتا ہے کہ وَحَرِّمُ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ، حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَاجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (الانبیاء : ۹۶، ۹۷) اور اس بستی پر حرام ہے جسے ہم نے ہلاک کر دیا کہ اس کے رہنے والے اس دنیا میں لوٹ کر نہیں آئیں گے۔یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر پہاڑی اور سمندر کی لہروں سے پھلانگتے ہوئے دنیا میں پھیل جائیں گے۔پس اس آیت میں بھی افراد کے رجوع کا ذکر نہیں بلکہ برباد شدہ بستیوں کی نو آبادی کا ذکر ہے۔آج کل یورپ کی عیسائی اقوام کے ادارہ جات استعمار کے ذریعہ یہ وعدہ الہی پورا ہورہا ہے اور ہر کسی کو معلوم ہے۔قرآن مجید میں روحانی موت اور زندگی کے لئے الفاظ بعث، احیاء اور اِمَاتَةٌ بیان ہوئے ہیں۔دیکھئے سورۃ الانعام آیت نمبر۳۷۔فرماتا ہے: اِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " تم اس میں جیو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی میں سے تم نکالے جاؤ گے۔“