صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 548 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 548

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۴۸ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف لوگ یا نقش و نگار کرنے اور تصویریں بنانے والے لوگ یعنی کتبوں والے۔لے تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر کبیر مصفنہ حضرت مصلح موعود، تفسیر سورة الكهف، جلد ۴ صفحہ ۴۱۷۔علامہ عینی نے لکھا ہے کہ اصحاب الکہف زمین کی غاروں میں رہتے تھے اور جو قصے ان کی نسبت مشہور ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ ان کے کتبوں پر اصحاب الکہف کے نام و حالات درج تھے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۳۶) تفسیر کبیر میں بتایا گیا ہے کہ وہ غاریں جن میں موحد عیسائیوں نے بود و باش اختیار کی، انہیں انگریزی میں (Catacombs) کہتے ہیں۔یعنی زمین دوز کمرے۔ان میں پتھر کے کتبے پائے گئے ہیں جن میں غار میں رہنے والوں کے نام و حالات کندہ ہیں۔کیٹا کو مبز سے متعلق کتاب (Catacombs of Rome) کا حوالہ تفسیر کبیر میں دیا گیا ہے، یہ میں نے بھی زمانہ طالب علمی میں پڑھی تھی۔کلمہ توحید کی خاطر ابتدائی عیسائیوں کی جد وجہد اور ان کی غیر معمولی قربانیوں کا اس کتاب سے علم ہوتا ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر جلد ۴ صفحہ ۴۱۸ تا ۴۳۰) ربَطْنَا عَلَى قَلْبِهَا کا مذکورہ بالا مفهوم ابو عبیدہ سے مروی ہے اور قتادہ سے بواسطہ معمر مروی ہے کہ ہم نے ان کے دلوں کو ایمان سے مضبوط کر دیا تھا۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۱۷) نیر و اور ڈیسیس وغیرہ شاہانِ روم کے مظالم کی روح فرسا داستان کا نمونہ تفسیر کبیر ( جلد ۴ صفحه ۴۲۴، ۴۲۵) میں نقل کیا گیا ہے جس سے ابتدائی توحید پرست عیسائیوں کے انتہائی جہد اور ایمان کی مضبوطی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔پورا سیاق کلام جن میں الفاظ رَبَطْنَا اور شَطَطًا وغیرہ بیان ہوئے ہیں یہ ہے: نَحْنُ نَقُضُ عَلَيْكَ نَبَاهُمْ بِالْحَقِّ إنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْ نَهُمْ هُدًى وَ رَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ لَنْ تَدْعُوا مِنْ دُونِةِ الهَا لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًان (الكهف: ۱۴، ۱۵) (اب) ہم ان کی اہم خبر بالکل صحیح طور پر تیرے پاس بیان کرتے ہیں۔وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر (حقیقی) ایمان لائے تھے اور انہیں ہم نے ہدایت میں (اور بھی) بڑھایا تھا۔اور جب وہ (اپنے وطن سے نکلنے کے لئے) اُٹھے تو ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کر دیا تب انہوں نے (ایک دوسرے سے) کہا کہ) ہمارا رب ( وہ ہے جو ) آسمانوں اور زمین کا (بھی) رہے ہے۔ہم اس کے سوا کسی اور معبود کو ہر گز (کبھی) نہیں پکاریں گے ورنہ ہم ایک حق سے دور بات کہنے والے ہوں گے۔ڈیسیس نے حکم جاری کر دیا تھا کہ مسیحی لوگ بتوں کو سجدہ کرنے پر مجبور کئے جائیں۔اگر وہ انکار کریں تو ان پر ہر قسم کی سختی کی جائے۔چنانچہ وہ بیٹے جاتے اور بری طرح زخمی کئے جاتے۔شاہ نیر و اس ظلم کے بارے میں شہرہ آفاق اور ضرب المثل ہے۔اُس نے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے مسیحیوں کو آگ میں زندہ بھی جلوایا۔ان توحید پرست عیسائیوں نے ہر قسم کے ظلم برداشت کئے، لیکن توحید سے سرتابی نہ کی۔تفصیل کے لیے دیکھئے تفسير كبير، تفسير سورة الكهف، جلد ۴ صفحه ۴۲۵،۴۲۴) یہی مفہوم ہے آیت رَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ کا۔۔(التفسير الكبير للرازی، سورة الكهف، آیت أَمْ حَسِبْتَ أَن أَصْحَبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيم ، جزء ۲۱ صفحه (۴۲۹)