صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 547
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۴۷ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف ابن منذر نے نقل کی ہے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۱۶) وَكَانَ لَهُ ثمر سے یہ آیت مراد ہے: كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ انت اكلَهَا وَلَمْ تَظْلِمُ مِنْهُ شَيْئًا وَقَ شَيْئًا وَفَجَّرْنَا خِللَهُمَا نَهَرًا) وَكَانَ لَهُ ثَمَرُ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَنَا أَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَ أَعَزُّ نَفَرًا (الكهف: ۳۴، ۳۵) اُن دونوں باغوں نے (اپنا) اپنا پھل (خوب) دیا اور اس میں سے کچھ (بھی) کم نہ کیا اور ان کے درمیان ہم نے ایک نہر جاری کی تھی اور اسے بہت پھل حاصل (ہوتا) تھا۔ اسی وجہ سے اُس نے اپنے ساتھی کو اس سے باتیں کرتے ہوئے فخریہ طور پر ) کہا کہ دیکھ تیری نسبت میرا مال زیادہ اور جتھا معزز ہے۔ تفسیر کبیر میں دو باغوں کی تمثیل سے عیسائی قوم کی دو حکومتیں مراد لی گئی ہیں اور أُکل سے مراد کھانے پینے کا با فراغت سامان اور مال و دولت کی انواع و اقسام اور زرع (کھیتی) سے دو حکومتوں کے درمیان معمولی حیثیت کی ملکیت ۔ كِلْنَا الْجَنَّتَيْنِ أَتَتْ أَكُلَهَا میں فعل انت مفرد ہے از روئے قواعد نحو جب فعل اپنے فاعل کے بعد ہو تو اس کے مطابق ہوتا ہے۔ الجنتين ( دو باغ) تثنیہ ہے اور چاہیے تھا کہ اس کے بعد فعل تثنیہ ہو تا یعنی التا۔ آیت میں فعل مفرد بیان ہوا ہے۔ اس مفرد فعل کے بیان ہونے سے ایک لطیف معنی پیدا ہو جاتے ہیں جس کی تفصیل تفسیر کبیر میں بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ چونکہ دونوں حکومتیں ایک ہی مذہب و ملت سے تعلق رکھتی ہیں گو بلحاظ زمانہ کے عیسائی حکومت دو مملکتوں میں دکھائی دیتی ہے لیکن در حقیقت وہ ایک ہی قوم کی جد وجہد کا تسلسل ہے اور وہ اپنے اپنے وقت پر بار آور ہوئی۔ اس شرح سے آیت ثُمَّ بَعَثْنَهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْطَى لِمَا لَبِثُوا أَمَدًا (الكهف : ۱۳) اور آیت يَنْشُرُ لَكُمْ رَبُّكُم مِّنْ منْ رَّحْمَتِهِ وَيُهَيِّئْ لَكُمْ مِنْ أَمْرِكُمْ مِرْفَقًا (الکھف:۱۷) کے کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ وَلَمْ تَظْلِمُ مِنْهُ شَيْئًا کا مفہوم حضرت ابن عباس اور قتادہ سے لَم تَنْقُصُ نقل کیا گیا ہے۔ یعنی پھل لانے میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوئی۔ واقعات سے ظاہر ہے کہ عیسائی ابتداء میں توحید پرست تھے، پھر بعد میں ان کی تمام تر کوششیں دنیا ہی کے لئے وقف ہو گئیں اور ان کا مطمح نظر خور و نوش اور دنیا کی آسائش و آرام تک ہی محدود ہے۔ مذکورہ آیات کی تطبیق کے لئے تفسیر کبیر ( تفسیر سورة الكهف، جلد ۴ صفحه ۴۴۷ تا ۴۵۱) ملاحظہ ہو۔ شرح صحیح بخاری میں گنجائش نہیں کہ وہ تفصیلات دہرائی جائیں جو اس میں بیان ہوئی ہیں۔ جو کچھ اختصار سے بیان کیا گیا ہے وہ الفاظ الْكَهْفِ، فَجَوَةِ ، تَقْرِضُهُمْ ، تَزُورُ اور ثَمَر کی ضروری شرح کے تعلق میں ہے۔ الرقيم بمعنی کتاب۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اصحاب الرقیم کے معنی ہیں پتھر یا لوہے پر کھودنے والے ا ترجمه از تفسیر صغیر: ”پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ ہم جان لیں کہ جتنی مدت وہ (وہاں) ٹھہرے رہے تھے اسے (مسیح کے متبع ) دونوں گروہوں میں سے زیادہ محفوظ رکھنے والا کونسا گر وہ ہے “ والے ترجمه از تفسیر صغیر: ”تمہارا رب اپنی رحمت کی کوئی راہ) تمہارے لئے کھول دے گا اور تمہارے لیے تمہارے اس معاملہ میں کوئی سہولت کا سامان مہیا کر دے گا ۔“