صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 546 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 546

۵۴۶ صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف اس آیت سے اصحاب الکہف کی غاروں کا محل وقوع بیان کیا گیا ہے۔اس آیت میں لفظ تَزُورُ اور فجوة بیان ہوئے ہیں، جن کے معنی ایک طرف کو ہٹنے اور کشادہ جگہ کے کئے گئے ہیں جو ابو عبیدہ سے مذکور ہیں۔کہتے ہیں: قَرَضَ الْوَادِی۔جَازَہ۔یعنی وادی کو طے کیا۔قَرَضَ الْمَكَانَ - عَدَلَ عَنْهُ و تَنَكَّبَه (اقرب الموارد- قرض) یعنی کسی جگہ سے ایک طرف کو ہٹ کر گیا۔فجوة - مُتَّسع یعنی کشادہ جگہ۔مَا اتَّسَعَ مِنَ الْأَرْضِ (اقرب الموارد - فجا) یعنی وسیع زمین۔مذکورہ بالا آیت میں بتایا گیا ہے کہ غاریں ایسے علاقہ میں واقع ہیں کہ سورج بوقت طلوع دائیں سمت کو ہوتا ہے اور بوقت غروب بائیں سمت کو۔یعنی ان غاروں کے اوپر سے سورج کبھی نہیں گزرتا۔اس بیان سے پایا جاتا ہے کہ وہ جگہیں نہ خط استوا پر واقع ہیں اور نہ خط جدی نہ خط سرطان کے درمیان بلکہ شمالی اطراف میں ہیں، کیونکہ سورج بوقت طلوع اسی صورت میں دائیں طرف سے گزرتا ہوا انہیں دکھائی دے گا، جب ہم شمال کی طرف جائیں اور مشرق کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوں اور بوقت غروب جب وہاں سے جنوب کو آئیں اور مشرق کی طرف منہ کریں تو سورج ہماری بائیں طرف رہے گا۔اس طرح مذکورہ بالا بیان سے اصحاب الکہف کی غاروں کا محل و قوع متعین ہو جاتا ہے کہ وہ شمالی علاقے میں ہیں۔لفظ الکھف مفرد ہے لیکن یہ اسم جنس ہونے کی وجہ سے جمع پر دلالت کرتا ہے اور زبان عربی میں قاعدہ ہے کہ جب مفرد کو جمع کی طرف مضاف کیا جائے تو اس مفرد مضاف کے معنی بھی جمع ہی ہوں گے۔گھفھم کے معنی ہیں ان کی غاریں۔لفظ فجوة کی جو شرح ابو عبیدہ سے مروی ہے اس سے ظاہر ہے کہ یہ غاریں وسیع علاقہ میں تھیں۔امام جماعت احمد یہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد المصلح الموعود نے قدیم مسیحیوں کی ابتدائی تاریخ زندگی کا ذکر تفصیل سے کیا اور بتایا ہے کہ وہ کس طرح رومانی مشترک حکام کے ظلم وستم سے بچنے کی خاطر غاروں میں پناہ گزیں ہوئے۔رومانی حکومت شمالی یورپ و سینی وغیرہ کے علاقوں تک ممتد تھی اور عیسائی مبلغین جو ابتداء میں موحد تھے اپنی تبلیغی مساعی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے ہوئے آخر شمالی یورپ کے ملکوں اور جزائر کی طرف بڑھتے چلے گئے اور وہاں کی قدیمی مشرک اقوام میں بود و باش اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔انہوں نے ان قوموں کو اپنے مذہبی خیالات و اخلاق سے متاثر کیا اور ایک لمبے عرصے کے اختلاط و آمیزش اور باہمی کشمکش کا نتیجہ وہ ہے جو آج عقیدہ تثلیث اور تمدنی انقلاب کی صورت میں ہمیں نظر آرہا ہے۔یہ تفسیر پڑھنے کے قابل ہے جو وسیع مطالعہ اور تحقیق پر مبنی ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ اصحاب کہف کی غاروں کا مجموعی رقبہ ۸۷۰ میل تھا تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر کبیر ، تفسير سورة الكهف، جلد ۴ صفحہ ۴۱۸ تا ۴۳۰۔اس اندازے سے ابو عبیدہ کی محولہ بالا شرح کی تائید ہوتی ہے۔كَانَ لَهُ ثَمَر : تُمُرُڑ کے معنی چاندی اور سونا اور مال و دولت، فریابی نے مجاہد سے نقل کئے ہیں اور قتادہ نے بھی کہا ہے کہ ہر قسم کا مال و منال مراد ہے، خواہ وہ سیم وزر کی صورت میں ہو یا جائیداد کی صورت میں۔طبری نے یہ معنی قتادہ سے نقل کئے ہیں اور حضرت ابن عباس نے قرآت قمر سے بھی انواع المال مراد لئے ہیں۔ان کی یہ روایت