صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 545
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۴۵ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف بَعَثْنَاهُمُ (الكهف : ۱۳) أَحْيَيْنَاهُمْ ہیں دروازہ بند کر دیا۔بَعَثْنَاهُمْ ہم نے اُن کو ازكى (الكهف: ٢٠) أَكْثَرُ، وَيُقَالُ زندہ کیا۔از کی ( طَعَامًا) یعنی وہ (بستی ) جہاں (کھانے کا) سامان وافر ہوتا ہو، اور کہتے ہیں: أَحَلُ، وَيُقَالُ أَكْثَرُ رَبْعًا۔قَالَ ابْنُ أَحَلُّ یعنی زیادہ مفید اور حلال، اور (اسی طرح) عَبَّاسٍ أُكْلَهَا وَلَمْ تَظْلِمُ (الكهف: ٣٤) کہتے ہیں: اکثر ريعًا یعنی وہ خوراک جس لَمْ تَنْقُص۔رحم میں غذائیت بہت ہو۔حضرت ابن عباس نے أكلها کہا۔یعنی اس کا میوہ، لم تظلم کے معنی ہیں کم نہیں ہوا۔وَقَالَ سَعِيدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ الرَّقِيمُ اور سعید نے حضرت ابن عباس سے روایت اللَّوْحُ مِنْ رَصَاصِ، كَتَبَ عَامِلُهُمْ کرتے ہوئے کہا: رقیہ سے مراد ہے سیسے کی أَسْمَاءَهُمْ ثُمَّ طَرَحَهُ فِي خِزَانَتِهِ۔فَضَرَبَ اللهُ عَلَى أَذَانِهِمْ (الكهف: ۱۲) و تختی اپنے خزانے میں رکھوا دی تھی۔فضرب تختی جس پر اُن کے حاکم نے اُن کے نام لکھوا کر الله عَلَى اذَا نِهِم سے مراد یہ ہے کہ وہ سو گئے اور فَنَامُوا وَقَالَ غَيْرُهُ وَأَلَتْ تَبِلُ تَنْجُو۔حضرت ابن عباس کے ماسوا اوروں نے کہا : وَقَالَ مُجَاهِدٌ مَوْبِلًا (الكهف: ٥٩) وَأَلَتْ ، تیل کے معنی میں ہیں یعنی تو نجات پاتا مَحْرزًا۔لَا يَسْتَطِيعُونَ سَبْعًا (الکھف: ۱۰۲) ہے۔اور مجاہد نے کہا: مولا کے معنی ہیں نجات پانے کی جگہ۔لَا يَسْتَطِيعُونَ سَبْعًا کے معنی ہیں لَا يَعْقِلُونَ۔وہ عقل نہیں رکھتے۔تشریح: تقرِضُهُمْ کے مذکورہ بالا معنی فریابی نے مجاہدہ سے نقل کئے ہیں۔عبد الرزاق نے بھی بسند معمر، قتادہ سے اس کے معنی چھوڑنا ہی نقل کیا ہے۔لفظ قرضَ کے معنی ہیں کاٹنا۔اس سے مقراض اسم آلہ ہے۔یعنی قینچی، جس کے ذریعے چیز کائی جاتی ہے۔یہ لفظ اس آیت میں آیا ہے: وَتَرَى الشَّمس إذَا طَلَعَتْ تَزُورُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ اليَمِينِ وَإِذَا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِنْهُ ذَلِكَ مِنْ آیت اللهِ - مَنْ يَهْدِ اللهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرشِدًا (الکھف: ۱۸) اور تو سورج کو دیکھتا ہے کہ وہ بوقت طلوع ان کی غار سے دائیں طرف کو ہٹ کر گزرتا ہے اور بوقت غروب انہیں شمالی سمت کو چھوڑ دیتا ہے اور وہ اس غار کے اندر ایک فراخ جگہ میں رہتے تھے۔یہ اللہ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔جسے اللہ ہدایت دے ، وہی ہدایت پانے والا ہوتا ہے اور جسے گمراہ کرے تو تو اس کا کوئی دوست اور رہنما نہیں پائے گا۔