صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 544 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 544

صحيح البخاری جلد ۱۰ نم نم ۵ ۱۸- سُورَةُ الْكَهْفِ ۶۵ - كتاب التفسير / الكهف وَقَالَ مُجَاهِدٌ تَقْرِضُهُمْ (الکھف: ۱۸) اور مجاہد نے کہا: تَقْرِضُهُمْ کے معنی ہیں انہیں تَتْرُكُهُمْ۔وَكَانَ لَهُ ثُمُرٌ ذَهَبْ وَفِضَّةٌ (ایک طرف) چھوڑ دیتا ہے۔وَكَانَ لَهُ قمر (میں وَقَالَ غَيْرُهُ جَمَاعَةُ الثَّمَرِ۔بَاخِعٌ عُمرسے مراد ) سونا اور چاندی ہیں۔مجاہد کے علاوہ (الكهف: ٧) مُهْلِكَ۔اَسَفًا (الكهف: ٧) اوروں نے کہا: (محمد) محمد کی جمع ہے ، یعنی بار آور۔باع یعنی بلاک کرنے والا۔آسفا کے معنی نَدَما ہیں ندامت سے۔الْكَهْف (الكهف: (١٠) الْفَتْحُ فِي الْجَبَلِ الْكَهْف یعنی غار یا کھوہ جو پہاڑ میں ہوتی ہے۔وَالرَّقِيم (الكهف: ١٠) الْكِتَابُ مَرْقُومٌ الرَّقِيم بمعنی کتاب ہے۔مرقوم یعنی لکھا ہوا۔یہ ، مَكْتُوبٌ مِنَ الرَّقْمِ۔رَبَطْنَا عَلَى رَقم سے مشتق ہے۔رَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ : ہم نے ان وبِهِمُ (الكهف: ١٥) أَلْهَمْنَاهُمْ صَبْرًا کے دلوں میں صبر ڈال دیا۔(جیسا کہ فرمایا ہے:) لولا أن ربطنَا عَلَى قَلْبِهَا (القصص: ١١)۔لو لا أن ربطنَا عَلَى قَلْبِهَا : اگر ہم موسیٰ کی ماں کے شَطَطًا (الكهف: ١٥) إِفْرَاطًا۔دل میں صبر نہ ڈالتے۔شَطَطًا: حد سے بڑھ جانا۔مِرْفَقًا (الكهف:۱۷) كُلُّ شَيْءٍ مِرْفَقًا یعنی ہر وہ شے جس پر تو تکیہ لگائے۔تزَاوَرُ ارْتَفَقَتْ به تَزَاوَرُ (الكهف: ۱۸) تَمِيْلُ کے معنی ہیں وہ جھک جاتا ہے، یہ زور سے ہے اور مِنَ الزَّوْرِ، وَالْأَزُوْرُ الْأَمِيلُ فَجْوَةٍ اَزور کے معنی ہیں ٹیڑھا ہونا۔تجوق کے معنی ہیں (الكهف: ۱۸) مُتَسَعٍ، وَالْجَمْعُ فَجَوَاتٌ کشادہ جگہ اور اس کی جمع فجوات اور فتجاج ہے، وَفِجَاءٌ، كَقَوْلِكَ رَكْوَةٌ وَرِكَاءُ } جیسے رکوۃ اور رکا (یعنی چھوٹا ڈول۔) الْوَصِيدُ الْفِنَاءُ، جَمْعُهُ وَصَائِدُ الْوَصِید یعنی آنگن۔اس کی جمع وَصَائِدُ اور وصد وَوُصُدٌ، وَيُقَالُ الْوَصِيْدُ الْبَابُ ہے۔وَصِید دروازے کو بھی کہتے ہیں۔مُؤصَدَةٌ مُؤْصَدَةٌ مُطْبَقَةٌ، آصَدَ الْبَابَ وَأَوْصَدَ۔یعنی بند کیا ہوا۔آصَدَ الْبَابَ وَأَوْصَدَ کے معنی ليه الفاظ التوضيح لشرح الجامع الصحیح کے مطابق متن میں ہیں۔(التوضيح لشرح الجامع الصحيح، کتاب تفسیر القرآن، سورة الكهف، جزء ۲۲ صفحه ۵۶۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔