صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 543
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۴۳ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل کرمانی لکھا ہے کہ ان کے نسخہ میں بجائے ابو بشر کے یونس راوی کا نام آیا ہے اور یہ تصحیف یعنی کتابت کی غلطی ہے۔اور فربری کے حوالے سے بتایا ہے کہ محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی اس کتاب میں جہاں بھی ہشیم کی روایت کا ذکر کیا ہے وہاں ابوالبشر سے روایت نقل کرتے ہوئے اخبر کا لفظ استعمال کیا ہے۔یہ لفظ بھی روایت کی کمزوری پر دلالت کرتا ہے بمقابل حدثنا کے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۱۵،۵۱۴) اس تبصرے سے ظاہر ہے کہ روایت بلحاظ سند محل نظر ہے۔عینی نے جو امام ابن حجر" کا تنتبع کرتے ہیں اس پر اعتراض کیا ہے اور سمجھا ہے کہ اس تبصرے سے انہوں نے کرمانی کی ہتک کی ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۳۵) جو درست نہیں۔انہوں نے امر واقعہ کا ذکر کیا ہے جو مینی کو بھی تسلیم ہے۔لیکن چونکہ وہ اہل حدیث ہیں اور علامہ ابن حجر حنفی المذہب ہیں۔علامہ عینی " کو جہاں بھی موقع ملتا ہے وہ ان کے خلاف رائے کا اظہار کرنے سے چوکتے نہیں۔علامہ ابن حجر نہ صرف تاریخ دان ہیں بلکہ بڑے پائے کے محقق اور صاحب نظر بھی۔غرض دونوں روایتیں معنعن ہیں۔اس لئے دوسری روایت جو حضرت عائشہ کے حوالے سے درج کی ہے قابل ترجیح ہے جس کی تائید نہ صرف دوسری روایتوں سے ہوتی ہے بلکہ خود کلام اللہ کی آیات کے سیاق سے، جن میں خشیت اور تضرع کا ذکر ہے۔ہشیم راوی سے متعلق محدثین بالعموم متفق ہیں کہ وہ سند میں بوجہ حافظہ کی کمزوری کے محتاط نہ تھے۔ان کے متعلق یہ الفاظ ہیں :مَنْ كُور بتدليس الإسناد۔یعنی سند کی تدلیس میں ان کاذ کر ماتا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۱۵) ✰✰✰