صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 542 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 542

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۴۲ ۲۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل فَلَا تُسْمِعُهُمْ وَابْتَ بَيْنَ ذلِكَ سَبِيلًا۔اور نہ اس میں اپنے ساتھیوں سے آواز اتنی دھیمی (بنی اسرائیل: ۱۱۱) کر کہ تو ان کو سنانہ سکے۔اور اس کی درمیانی راہ أطرافه: ٧٤٩٠ ٢٥، ٧٥٤٧۔اختیار کر۔٤٧٢٣ : حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ :۴۷۲۳ طلق بن غنام نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زائده بن قدامہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : أُنْزِلَ ہشام بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذَلِكَ فِي الدُّعَاءِ۔أطرافه: ٦٣٢٧، ٧٥٢٦- روایت کی کہ وہ فرماتی تھیں کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔تشریح: مريح : وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا: طبری، حاکم اور ابن خزیمہ وغیرہ نے بعض ایسی روایتیں نقل کی ہیں جن میں وہی ذکر ہے جو روایت نمبر ۴۷۲۲ میں مذکور ہے۔طبری نے متعدد روایتیں نقل کرنے کے بعد حضرت ابن عباس سے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کے مطابق ایک روایت نقل کی ہے جس میں ذکر ہے کہ مذکورہ بالا ارشاد باری تعالیٰ کا تعلق نماز اور دعا سے ہے، محض قراءت بالجہر یا قراءت بالخفا سے نہیں اور نہ ہی کفار مکہ کی گالیاں دینے اور بُرا منانے سے۔یعنی نمازوں اور دعاؤں میں خشوع و خضوع سے کام لینا چاہیئے۔جیسا کہ روایت نمبر ۴۷۲۳ میں حضرت عائشہ کے قول میں صراحت ہے اور بعض مفسرین نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا ہے۔طبری نے یہاں تک لکھا ہے کہ ہم مفسرین کی رائے کی مخالفت جائز نہیں سمجھتے۔اگر یہ بات نہ ہوتی تو ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ لا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ کا تعلق دن کی نمازوں سے ہے جن میں قراءت بالجہر نہیں اور ولا تُخَافِتْ کا تعلق رات کی نمازوں سے ہے جن میں دھیمی آواز سے قراءت کرنے کا حکم ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۱۶٬۵۱۵) طبری کی یہ تاویل معقول اور واقعہ کے مطابق ہے۔اس تو تعلق میں مزید تفصیل کے لئے کتاب الاذان ، ابواب صفۃ الصلاۃ، باب ۹۸ تا ۱۰۹ دیکھئے۔یہاں قارئین کو ایک ضروری امر کی طرف توجہ دلانا مناسب معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ باب ۱۴ کی دونوں روایتیں معنعن ہیں جو بلحاظ استناد کے مرفوع اور موصول سے کم درجے کی ہیں۔مزید برآں امام ابن حجر نے بحوالہ (جامع البيان للطبری، تفسير سورة الإسراء، آیت وَلا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ، جزء ۱۵ صفحه ۱۲۸ تا ۱۳۷)