صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 541 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 541

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۴۱ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل نحضرت صلی اللہ علم کی نسبت صحابہ کا بلا شبہ یہ اعتقاد تھا کہ آنجناب کا کوئی فعل اور کوئی قول وحی کی آمیزش سے خالی نہیں۔ گو وہ وحی مجمل ہو یا مفصل۔ خفی ہو یا جلی بین ہو یا مشتبہ ۔“ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۲، ۱۱۳) باب ١٤ : وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا (بنی اسرائیل: ۱۱۱) تو اپنی نماز بلند آواز سے نہ پڑھ اور نہ بالکل خاموشی سے ٤٧٢٢ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ ۴۷۲۲: يعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا هشيم ( بن بشیر ) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ نے کہا) ابو بشر نے ہمیں خبر دی کہ سعید بن جبیر ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت ابن عباس قَوْلِهِ تَعَالَى وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ وَلَا رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ تُخَافِتْ بِهَا (بنی اسرائیل: (۱۱۱) قَالَ کے قول وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (یعنی تو اپنی نماز بلند آواز سے نہ پڑھ اور نہ بالکل خاموشی سے) کی نسبت فرمایا کہ یہ آیت اس مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ كَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَإِذَا سَمِعَ وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللی علم می علیدوم پوشیده طور پر مکہ میں رہتے تھے۔ جس وقت آپ اپنے الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ ساتھیوں کو نماز پڑھاتے، قرآن پڑھنے میں اپنی وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَقَالَ اللهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ آواز بلند کرتے۔ اور جب مشرک سنتے تو قرآن کو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَجْهَرُ گالیاں دیتے اور اس ذات کو بھی جس نے یہ نازل بصلاتك ( بنی اسرائیل: ۱۱۱) أَيْ کیا اور اس کو بھی جو لے کر آیا۔ اس لئے اللہ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ تعالٰی نے اپنے نبی صلی الم سے کہا کہ اپنی نماز بلند فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا آواز سے نہ پڑھ۔ یعنی اپنی قراءت کو اونچا نہ کرو (بنی اسرائیل: ۱۱۱) عَنْ أَصْحَابِكَ مبادا مشرک سن پائیں اور قرآن کو گالیاں دیں۔ ا فتح الباری مطبوعہ بولاق میں "أَخْبَرَنَا“ کا لفظ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۱۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔