صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 540 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 540

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۴۰ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل الْعِلْمِ الا قليلا۔کھڑا ہو گیا۔جب وحی نازل ہو چکی تو آپ نے فرمایا: (بنی اسرائیل: ٨٦) اور وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔تو کہہ کہ روح میرے رب کے امر سے وجود پذیر ہے اور تمہیں علم میں سے بہت ہی تھوڑا دیا گیا ہے۔(کہ اس کی حقیقت سمجھ سکو) أطرافه ۱۲۵، ۷۲۹۷،۸، ٧٤٥٦ ٧٤٦٢- تشریح : وَيَدَ وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوح : روایت زیر باب کا تعلق بظاہر سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر ۸۶ کے شان نزول سے ہے۔مگر جس واقعہ کا ذکر ہے اس کا تعلق مدنی زندگی سے ہے نہ کہ مکی زندگی سے۔جبکہ سورۃ بنی اسرائیل کی زندگی میں نازل ہوئی تھی۔آنحضرت صلی ایم کی خاموشی سے نزول وحی کا جو قیاس کیا گیا ہے یہ صرف صحابی کا خیال ہے۔کیونکہ یہ بھی احتمال ہے کہ آپ جواب کے لئے قرآن مجید میں غور فرما رہے ہوں تا وحی الہی سے سوال کرنے والے یہودیوں کو بتایا جائے۔چنانچہ اس احتمال کی تائید اس امر سے ہوتی ہے کہ یہ سورۃ جس میں آیت يَسْتَلُونَكَ عَنِ الروح ہے وہ بالاتفاق مکی سورۃ ہے۔علاوہ ازیں اس روایت کی دوسری سند سے بھی اس امر کی تائید ہوتی ہے جس میں فَعَلِمْتُ کی جگہ فَظَنَنتُ أَنَّهُ یو سی الیہ مذکور ہے۔یعنی میں نے سمجھا کہ آپ کو وحی ہو رہی ہے۔(دیکھئے کتاب التوحید ، باب وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ، روایت نمبر ۷۴۵۶) کتاب العلم کی روایت نمبر ۱۲۵ میں یہ الفاظ ہیں : فَقُلْتُ إِنَّهُ يُوحَی الیہ۔میں نے (اپنے دل میں ) کہا کہ آپ کو وحی ہو رہی ہے۔اور کتاب الاعتصام کی روایت نمبر ۷۲۹۷ میں ہے: فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ۔میں سمجھا کہ آپ کو وحی ہو رہی ہے۔فَعَلِمْتُ، فَظَنَنتُ، فَقُلْتُ اور فَعَرَفت ایک دوسرے کے ہم معنی افعال ہیں۔امام ابن حجر نے لکھا ہے: وَإِطْلَاقُ الْعِلْمِ عَلَى الظَّنِ مَشْهُورُ۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۱۲) یعنی یہ کہ علم کا نظن پر اطلاق مشہور بات ہے۔کتاب الاعتصام کی روایت نمبر ۷۲۹۷ میں فَقُمْتُ مقامی کی جگہ فَتَاخَرْتُ عَنْهُ ہے۔یعنی میں پیچھے ہٹ گیا۔یعنی بوجہ ادب کے میں ایک طرف ہو گیا، اور اس میں فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحی کی جگہ حَتَّی صَعِدَ الْوَحْی ہے۔یعنی یہاں تک کہ وحی چلی گئی۔اور کتاب العلم کی روایت نمبر ۱۲۵ میں ہے: فَقُمْتُ فَلَمَّا الْجَلَى عَنْهُ۔یعنی میں کھڑا ہو گیا۔جب وحی کی حالت (آپ سے ) ہٹ گئی۔روایتوں کا یہ لفظی اختلاف بتاتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو جو راوی حدیث ہیں آپ کی خاموشی سے خیال پیدا ہوا کہ یہ نزول وحی کی کیفیت ہے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ آنحضرت صلی اینم کی حرکات و سکنات تمام تر وحی الہی کی تجلی سے صادر ہوتے تھے۔آپ کا سوچنا اور آپ کا بات کرنا اور آپ کا ہر فعل ارادہ الہی کے ماتحت تھا اور آپ سے روح القدس کا پیوند دائمی تھا جو ایک لمحہ آپ سے جدا نہ ہوتا تھا۔اس اہم مضمون کی تفصیلات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف آئینہ کمالات اسلام میں نہایت بسط سے بیان فرمائی ہیں۔آپ فرماتے ہیں: