صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 539 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 539

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۳۹ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (آل عمران: (۶۸) یعنی ابراہیم نہ یہودی تھانہ نصرانی بلکہ وہ خدا تعالیٰ کا کامل فرمانبردار اور خدا تعالیٰ کی ساری صداقتوں کو ماننے والا اور خدا کا موحد بندہ تھا۔ چنانچہ آپؐ کے حکم سے اس تصویر کو بھی مٹا دیا گیا۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۱۹ صفحه ۳۱۳،۳۱۲) بَاب ۱۳ : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوح ( بني اسرائيل : ٨٦) اور وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں ٤٧٢١ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ ۴۷۲۱: عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابراہیم (شخصی) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے علقمہ سے ، علقمہ نے حضرت عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا عبد اللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي انہوں نے کہا: ایک بار میں نبی علی ایم کے ساتھ حَرْثٍ وَهُوَ مُتَّكِى عَلَى عَسِيبٍ إِذْ ایک کھیتی میں تھا اور آپ کھجور کی چھڑی سے سہارا مَرَّ الْيَهُودُ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ لئے کھڑے تھے کہ اتنے میں کچھ یہودی گزرے۔ عَنِ الرُّوحِ فَقَالَ مَا رَابَكُمْ إِلَيْهِ وَقَالَ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ان (محمد بَعْضُهُمْ لَا يَسْتَقْبِلُكُمْ بِشَيْءٍ صلی علم سے روح کی نسبت پوچھیں ، تو ان میں سے ) تَكْرَهُونَهُ فَقَالُوا سَلُوهُ فَسَأَلُوهُ عَنِ کسی نے کہا کہ تمہیں اس کا خیال کیسے آیا کہ ان سے یہ بات پوچھی جائے) اور بعض نے کہا: کہیں الرُّوحِ فَأَمْسَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وہ تم سے ایسی بات نہ کہہ دیں کہ جو تم برا مناؤ۔ آخر وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا فَعَلِمْتُ انہوں نے کہا کہ ان محمد صلی اللہ محمد صلی الم سے پوچھ لیں۔ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ فَقُمْتُ مَقَامِي فَلَمَّا چنانچہ انہوں نے آپ سے روح کی بابت پوچھا۔ نَزَلَ الْوَحْيُ قَالَ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ نبي صلى اللهم خاموش رہے ، انہیں جو اب نہ دیا۔ میں قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ سمجھا کہ آپؐ کو وحی ہو رہی ہے، تو میں اپنی جگہ