صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 538
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۳۸ اریم ۲۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل زَهُوقًا (بنی اسرائیل: ۸۱، ۸۲) یعنی تو کہہ دے میرے رب! مجھے اس شہر یعنی مکہ میں نیک طور پر داخل کیجیو۔یعنی ہجرت کے بعد فتح اور غلبہ دے کر اور اس شہر سے خیریت سے ہی نکالیو یعنی ہجرت کے وقت۔اور خود اپنے پاس سے مجھے غلبہ اور مدد کے سامان بھجوائیو۔اور یہ بھی کہو کہ حق آگیا ہے اور باطل یعنی شرک شکست کھا کے بھاگ گیا ہے۔اور باطل یعنی شرک کے لئے شکست کھا کر بھاگنا تو ہمیشہ کے لئے مقدر تھا۔اس پیشگوئی کے لفظاً لفظاً پورا ہونے اور حضرت ابو بکر کے اس کو تلاوت کرتے وقت مسلمانوں اور کفار کے دلوں میں جو جذبات پیدا ہوئے ہوں گے وہ لفظوں میں ادا نہیں ہو سکتے۔غرض اُس دن ابراہیم کا مقام پھر خدائے واحد کی عبادت کے لئے مخصوص کر دیا گیا اور بت ہمیشہ کے لئے توڑے گئے۔جب رسول کریم صلی الم نے مہبل نامی بت کے اوپر اپنی چھڑی ماری اور وہ اپنے مقام سے گر کر ٹوٹ گیا تو حضرت زبیر نے ابوسفیان کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہا: ابو سفیان یاد ہے اُحد کے دن جب مسلمان زخموں سے چور ایک طرف کھڑے ہوئے تھے، تم نے اپنے غرور میں یہ اعلان کیا تھا اُعل هبل اعل ھبل۔ٹہبل کی شان بلند ہو ، ٹہل کی شان بلند ہو۔اور یہ کہ ہبل نے ہی تم کو اُحد کے دن مسلمانوں پر فتح دی تھی۔آج دیکھتے ہو وہ سامنے ہبل کے ٹکڑے پڑے ہیں۔ابو سفیان نے کہا: زبیر یہ باتیں جانے بھی دو۔آج ہم کو اچھی طرح نظر آ رہا ہے کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللی علم کے خدا کے سوا کوئی اور خدا بھی ہوتا تو آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اس طرح کبھی نہ ہوتا۔پھر آپ نے خانہ کعبہ کے اندر جو تصویریں حضرت ابراہیم وغیرہ کی بنی ہوئی تھیں اُن کے مٹانے کا حکم دیا۔اور خانہ کعبہ میں خدا تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کے شکریہ میں دو رکعت نماز پڑھی۔پھر باہر تشریف لائے اور باہر آکر بھی دو رکعت نماز پڑھی۔خانہ کعبہ کی تصویروں کو مٹانے کے لئے رسول اللہ صلی ال نیوی نے حضرت عمرؓ کو مقرر فرمایا تھا۔انہوں نے اس خیال سے کہ حضرت ابراہیم کو تو ہم بھی نبی مانتے ہیں حضرت ابراہیم کی تصویر کو نہ مٹایا۔رسول اللہ صلی الم نے جب اس تصویر کو قائم دیکھا تو فرمایا: عمر ! تم نے یہ کیا کیا۔کیا خدا نے یہ نہیں فرمایا کہ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيَّا وَلَا نَصْرَانِيًّا