صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 537
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۳۷ ۲۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل عِندَكَ أَى ذَهَبَ كُلُهُ۔جو تیرے پاس تھا وہ سارے کا سارا ضائع ہو گیا۔علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس سے آیت إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔زَهُوق لفظ کے معنی ذَاحِبًا یعنی بھگوڑے کے کئے ہیں۔اور بسند سعید ، قتادہ سے زَهَقَ الْبَاطِلُ کے معنی هَلَكَ الْبَاطِلُ منقول ہیں۔یعنی باطل برباد ہو گیا۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی مندرجہ بالا روایت خانہ کعبہ سے باہر پڑے بتوں کے متعلق ہے۔اس مضمون کی ایک روایت حضرت عبد اللہ بن عباس سے بھی مروی ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علی کی فتح مکہ کے موقع پر بیت اللہ میں داخل ہونے سے رک گئے۔کیونکہ اُس کے اندر بت پڑے ہوئے تھے۔آپ نے ان کی نسبت حکم دیا اور وہ نکال دئے گئے۔پھر ( آپ کے ارشاد پر) حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی تصویریں بھی نکال دی گئیں جن کے ہاتھ میں فال نکالنے کے تیر بنے ہوئے تھے۔نبی کریم صلی ا ہم نے اس موقع پر فرمایا: اللہ ان مشرکوں کو ہلاک کرے۔انہیں علم ہے کہ ان دونوں نے ان چیزوں سے کبھی فال نہیں لی۔( بخاری، کتاب المغازی باب ۴۸، روایت نمبر ۴۲۸۸) سورۃ بنی اسرائیل کی آیات ۷۹ تا ۸۲ کا تعلق فتح مکہ سے ہے۔سورۃ بنی اسرائیل کے شان نزول کی نسبت بتایا جاچکا ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے اور ہجرت سے کافی عرصہ قبل نازل ہوئی۔مکہ مکرمہ ۸ ہجری میں فتح ہوا، اس لئے یہ آیات ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہیں۔اگلے باب کی تشریح میں شان نزول کے متعلق ایک غلط فہمی کا ازالہ کیا جائے گا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس واقعہ سے متعلق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مکہ میں داخل ہوتے وقت حضرت ابو بکر آپ کی اونٹنی کی رکاب پکڑے ہوئے آپ کے ساتھ باتیں بھی کرتے جارہے تھے۔اور سورہ فتح جس میں مکہ کی فتح کی خبر دی گئی تھی، وہ بھی پڑھتے جاتے تھے۔آپ سیدھے خانہ کعبہ میں آئے اور اونٹنی پر چڑھے چڑھے سات دفعہ خانہ کعبہ کا طواف کیا۔اُس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک سوٹی تھی۔آپ خانہ کعبہ کے گرد، جس گھر کو ابراہیم اور اُس کے بیٹے اسماعیل نے خدائے واحد کی پرستش کے لئے بنایا تھا اور جس کو بعد میں اُن کی گمراہ اولاد نے بتوں کا مخزن بنا کر رکھ دیا تھا، گھومے۔اور وہ تین سو ساٹھ بت جو اس جگہ پر رکھے ہوئے تھے اُن میں سے ایک ایک بت پر آپ سوئی مارتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے : جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔یہ وہ آیت ہے جو ہجرت سے پہلے سورہ بنی اسرائیل میں آپ پر نازل ہوئی تھی۔اور جس میں ہجرت اور پھر فتح مکہ کی خبر دی گئی تھی۔اس سورۃ میں یہ بیان کیا گیا تھا که وَقُل رَّبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْنِى مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ تدنك سُلْطنًا نَصِيرًا وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ