صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 34
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة باب ۱۰ : قَوْلُهُ تَعَالَى وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْعِيلُ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور جب ابراہیم اور اسماعیل اس گھر کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ ( تو انہوں نے یہ دعا کی: اے ہمارے ربّ! الْعَلِيمُ (البقرة: ١٢٨) ہم سے قبول کیجیو۔تو ہی خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔الْقَوَاعِدُ : أَسَاسُهُ وَاحِدَتُهَا قَاعِدَةٌ الْقَوَاعِدَ کے معنی ہیں: بنیا دیں۔اس کا مفرد قاعِدَةٌ وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ ( النور : ٦١) ہے اور (سورہ نور میں جو ) وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ وَاحِدُهَا قَاعِدٌ۔آیا ہے تو اس کا مفرد قاعِدٌ ہے۔یعنی جو شادی کے قابل نہیں۔٤٤٨٤ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ :۴۴۸۴: اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے ابن سَالِمِ بْن عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبد اللہ سے مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ روایت کی کہ عبد اللہ بن محمد بن ابی بکر نے حضرت عبد اللہ بن عمر کو بتایا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علم نہیں کہ تمہاری قوم نے کعبہ بنایا تھا اور انہوں قَالَ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ بَنَوا الْكَعْبَةَ نے ابراہیمؑ کی بنیادوں سے چھوٹا رکھا۔میں نے وَاقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيْمَ فَقُلْتُ کہا: یا رسول اللہ ! کیا آپ پھر اسے ابراہیم کی بنیادوں پر نہیں کر دیتے؟ آپ نے فرمایا: اگر یہ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ بات نہ ہوتی کہ تمہاری قوم نے حال ہی میں کفر إِبْرَاهِيْمَ قَالَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ سے نجات پائی ہے (تو میں ویسا کر دیتا۔) حضرت بِالْكُفْرِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَئِنْ عبد الله بن عمرؓ نے ( یہ سن کر کہا: اگر حضرت عائشہ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَّسُوْلِ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے تو میں