صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 33 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 33

صحيح البخاری جلد ۱۰ poor proper ۶۵ - کتاب التفسير خَيْرًا مِنْكُنَّ حَتَّى أَتَيْتُ إِحْدَى نِسَائِهِ کا اظہار کیا ہے۔میں آپ کی ازواج کے پاس گیا۔قَالَتْ يَا عُمَرُ أَمَا فِي رَسُولِ اللهِ میں نے کہا: اگر تم باز آتی ہو ( تو آؤ ) ورنہ اللہ اپنے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے بدلے تم سے حَتَّى تَعِظَهُنَّ أَنْتَ فَأَنْزَلَ اللهُ: بہتر (عورتیں) دے گا۔جب میں آپ کی ازواج عسى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا میں سے ایک کے پاس گیا تو وہ بول اٹھیں : عمر! کیا خَيْرًا مِنْكُنَ مُسْلِمت (التحريم :-) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کو نصیحت الْآيَةَ۔وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا نہیں فرماتے کہ آپ ان کو نصیحت کرنے لگ گئے يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ہیں۔آخر اللہ نے یہ وحی نازل کی : ہوسکتا ہے کہ اگر وہ تم کو طلاق دے دے تو اس کا رب تمہارے بدلہ میں اس کو ایسی ازواج دے جو تم سے بہتر ہوں، فرمانبر دار ہوں۔ابن ابی مریم نے کہا: بیچی بن ایوب نے ہم سے بیان کیا کہ حمید نے مجھے بتایا۔( وہ کہتے تھے ) کہ میں نے حضرت انس سے سنا۔انہوں نے حضرت عمرؓ سے یہی روایت بیان کی۔سَمِعْتُ أَنَسًا عَنْ عُمَرَ۔اطرافه ٤٠٢ ، ٤٧٩٠، ٤٩١٦۔تشریح : وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِمَ مُصَلَّى : پوری آیت یہ ہے: وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَقَابَةٌ لِلنَّاسِ وَآمَنَّا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَهِمَ مُصَلَّى وَ عَهِدْنَا إِلى إِبْرَاهِمَ وَإِسْمَعِيلَ أَن طَهِرًا بَيْتِيَ لِلظَّابِفِينَ وَالْعَكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ (البقرة: ۱۲۶) اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ہم نے اس گھر ( یعنی کعبہ) کو لوگوں کے لئے بار بار جمع ہونے کی جگہ اور امن کا مقام بنایا تھا۔اور ( حکم دیا تھا کہ ) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ۔اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکیدی حکم دیا تھا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک (اور صاف ) رکھو۔عنوان باب میں لفظ مَثَابَةً کی شرح ابو عبیدہ سے مروی ہے۔یہ اسم مصدر ہے۔بعض کے نزدیک ظرف مکاں ہے۔فراء ادیب نے مقابہ اور مَذَاب کو ایک ہی معنوں میں قرار دیا ہے، یعنی مرجع عالم ، جیسے مَقَام اور مَقَامَةٌ علماء بصرہ کے نزدیک مبالغہ کے لئے ہے، جیسے سیار۔(فتح الباری جزء۸ صفحہ ۲۱۲،۲۱۱) اس باب کے تحت ایک روایت (نمبر ۴۴۸۳) درج ہے۔اس میں مذکور تحویل قبلہ کے مضمون کے لیے دیکھئے کتاب الصلاۃ باب ۳۰ تا ۳۲۔نیز کتاب النکاح باب ۱۱۵، روایت نمبر ۵۲۳۷ بھی دیکھئے جہاں حجاب سے متعلق حضرت عمرؓ کی رائے کا ذکر ہے۔