صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 536 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 536

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۳۶ ۲۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل اس کے کہ بت پرستی اور شرک میں نشو و نما پایا تھا ایسے موحد ہو گئے جن کی نظیر کسی زمانہ میں نہیں ملتی اور پھر آپ کی شفاعت کا ہی اثر ہے کہ اب تک آپ کی پیروی کرنے والے خدا کا سچا الہام پاتے ہیں خدا ان سے ہم کلام ہوتا ہے۔66 ( عصمت انبیاء علیهم السلام، روحانی خزائن جلد ۱۸، صفحه ۷۰۰،۶۹۹) باب ۱۲ وَقُل جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ - إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنی اسرائیل: ۸۲) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور سب لوگوں سے کہہ دے (کہ بس اب ) حق آگیا ہے اور باطل بھاگ گیا ہے اور باطل تو ہے ہی بھاگ جانے والا يَزْهَقُ يَهْلِكُ۔يزهق کے معنی ہیں يملك۔یعنی وہ ہلاک ہوتا ہے۔٤٧٢٠: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۴۷۲۰: حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن ابی بیح مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرِ عَنْ عَبْدِ اللهِ سے، انہوں نے مجاہد سے ، مجاہد نے ابی معمر سے، بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ الى معمر نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی ا لم (فتح کے روز) مکہ میں داخل ہوئے، اس وقت بیت اللہ کے آس پاس تین سو ساٹھ بت تھے۔ایک لکڑی نُصْبٍ فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ وَيَقُولُ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ سے جو آپ کے ہاتھ میں تھی آپ اُن کو ٹھکرانے لگے اور فرمانے لگے : حق آگیا ہے اور باطل بھاگ وَحَوْلَ الْبَيْتِ سِتُونَ وَثَلَاثُ مِائَةِ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنی اسرائیل: ۸۲ گیا ہے اور باطل تو ہے ہی بھاگ جانے والا۔حق جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِى الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ۔آگیا ہے۔اب باطل نہ نئے سرے سے نمودار أطرافه: ٢٤٧٨، ٤٢٨٧ - (سبا: ٥٠) ہو گا اور نہ کوٹے گا۔تشریح : ريح :۔۔وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ - إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا: لفظ زُهُوق بمعنى ہلاکت ابو عبیدہ سے مروی ہے۔انہوں نے آیت تَزْهَقَ أَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كَفَرُونَ (توبة : ۵۶) کے معنی یہ کئے ہیں: تخرج ومموت وعملک۔ان کی جانیں نکلیں گی، مریں گی اور ہلاک ہوں گی۔کہتے ہیں : زَهَقَ مَا