صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 535
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۳۵ ۲۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل ہو دل پر بھی اثر کرتی ہے اور جو شخص انتہا درجہ پر کسی سے محبت کرتا ہے وہی شخص کامل طور پر اور سچے طور پر اس کی بھلائی کو بھی چاہتا ہے چنانچہ یہ امر بچوں کی نسبت ان کی ماؤں کی طرف سے مشہود اور محسوس ہے۔پس اصل جڑ شفاعت کی یہی محبت ہے جب اس کے ساتھ فطرتی تعلق بھی ہو کیونکہ بجز فطرتی تعلق کے محبت کا کمال جو شرط شفاعت ہے غیر ممکن ہے۔اگر کسی انسان میں یہ دو صفتیں موجود ہوں کہ ایک خدا سے تعلق شدید ہو اور دوسری طرف مخلوق سے بھی محبت اور ہمدردی کا تعلق ہو تو بلاشبہ ایسا شخص ان لوگوں کے لئے جنہوں نے عمداً اس سے تعلق نہیں تو ڑا دلی جوش سے شفاعت کرے گا اور وہ شفاعت اس کی منظور کی جائے گی۔“ (عصمت انبیاء علیھم السلام، روحانی خزائن جلد ۱۸، صفحه ۶۵۹ تا۶۶۲) اس مضمون کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا: شفاعت کا لفظ شفع سے نکلا ہے جس کے معنی جفت ہے پس اس میں کیا شک : سکتا ہے کہ تمام برکات تناسل شفع سے ہی پیدا ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ایک انسان کے اخلاق اور قوت اور صورت دوسرے انسان میں اسی ذریعہ سے آجاتے ہیں یعنی وہ ایک جوڑ کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔پس یہی جوڑ جب ان معنوں سے لیا جاتا ہے کہ ایک ناقص ایک کامل سے روحانی تعلق پیدا کر کے اس کی روح سے اپنی کمزوری کا علاج پاتا ہے اور نفسانی جذبات سے محفوظ رہتا ہے تو اس جوڑ کا نام شفاعت ہے۔یہی حقیقت شفاعت ہے اور جس طرح جسمانی شفع یعنی جوڑ کا یہ لازمہ ذاتی ہے کہ اولاد مناسب حال اس شخص کے ہوتی ہے جس سے یہ جوڑ کیا گیا ہے ایسا ہی روحانی شفع کا بھی خاصہ ہے۔غرض یہی حقیقت شفاعت ہے کہ خدا کا قانون قدرت جسمانی اور روحانی اس طرح پر قدیم سے واقع ہے کہ تمام برکات جوڑ سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔“ (عصمت انبیاء علیهم السلام، روحانی خزائن جلد ۱۸، صفحه ۶۷۹،۶۷۸) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ” جب ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ کا شفیع ہونا اجلی بدیہیات معلوم ہوتا ہے کیونکہ آپ کی شفاعت کا ہی اثر تھا کہ آپ نے غریب صحابہ کو تخت پر بٹھا دیا اور آپ کی شفاعت کا ہی اثر تھا کہ وہ لوگ باوجود