صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 534 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 534

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۳۴ ۶۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل رَوَاهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ اس حدیث کو حمزہ بن عبد اللہ نے بھی اپنے باپ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ سے، ان کے باپ نے نبی صلی علیم سے روایت طرفه: ٦١٤ - کیا ہے۔ تشريح : عَلَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا: باب ۵ کی روایت نمبر ۴۷۱۲ میں حضرت ابوہریرہ کی ایک مفصل روایت گزر چکی ہے کہ تمام قو میں انتہائی کرب اور گبھراہٹ کی گھڑی میں اپنے اپنے نبی اور رسول کے پاس آئیں گی اور ان سے سفارش چاہیں گی۔ لیکن تمام انبیاء و رسل اپنی معذرت کریں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اس غرض کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللی ایم کے پاس جاؤ۔ چنانچہ وہ آئیں گی اور آپ ان کی سفارش فرمائیں گے اور آپ کی سفارش سے ان کی نجات کا سامان ہو گا۔ یہی وہ نازک گھڑی ہے جس کا تعلق مقام محمود اور قرآن مشہود کی پیشگوئی کے پورا ہونے سے ہے۔ آخرت میں بھی آنحضرت صلی علیہم کو یہ مقام محمود حاصل ہو گا اور دنیا میں بھی، جب نمونہ قیامت گھڑی ن گھڑی بر پا ہو گی اور تمام قو میں بالآخر مجبور ہو کر آپ کے سایہ رحمت میں جگہ ڈھونڈیں گی اور گواہی دیں گی کہ ان کے لئے سوائے دین اسلام کے کوئی راہ نجات نہیں۔ بابا کے ماتحت جو روایت حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے اور باب ۵ کی روایت حضرت ابوہریرہ سے ، ان دونوں روایتوں میں اختلاف نہیں۔ فرق صرف تفصیل اور اجمال کا ہے۔ دونوں مفہوماً ایک ہی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت کے نقل کرنے والے ابو الا حوص ثقات میں سے ہیں۔ ان کا نام سلام بن سلیم ہے اور آدم بن علی عجلی بصری جن سے ابوالا حوص نے روایت کی ہے وہ بھی ثقہ ہیں۔ صحیح بخاری میں ان کی یہ ایک ہی روایت (نمبر ۴۷۱۸) ہے۔ اس روایت میں لفظ جنا یا حتی آیا ہے۔ جاپ یا جُنوَةٌ کی جمع ہے جیسے خُطوة کی جمع خُطا یا جیسے غاز سے غری۔ دونوں طرح اس لفظ کی جمع ہے۔ اس کے معنی ہیں گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۸) جماعت اور گروہ کے معانی میں بھی یہ لفظ آتا ہے۔ (المفردات فی غریب القرآن - جثى) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام شفاعت کے مضمون کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: شفاعت کا لفظ شفع کے لفظ سے نکلا ہے جو زوج کو کہتے ہیں پس جو شخص فطرتی طور پر ایک دوسرے شخص کا زوج ٹھہر جائے گا ضرور اس کی صفات میں سے حصہ لے گا۔ تمام مدار شفاعت سے فیض اٹھانے کا اس بات پر ہے کہ جس شخص کی شفاعت سے مستفیض ہونا چاہتا ہے اُس سے فطرتی تعلق اُس کو حاصل ہوتا جو کچھ اُس کی فطرت کو دیا گیا ہے اس کی فطرت کو بھی وہی ملے۔ اسی بنا پر قوت عشقی کا تموج بھی ہے کہ ایک شخص ایک شخص سے اس قدر محبت بڑھاتا ہے کہ بغیر اس کے دیکھنے کے آرام نہیں کر سکتا۔ آخر اس کی شدت محبت اس دوسرے شخص کے