صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 532 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 532

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۳۲ -۲۵ کتاب التفسير / بني إسرائيل - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ ابو سلمہ (عبد اللہ بن عبد الرحمن بن عوف) اور النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ (سعيد) ابن مسیب سے ، ان دونوں نے حضرت فَضْلُ صَلَاةِ الْجَمْع عَلَى صَلَاةِ ابوهريره رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہ نے الْوَاحِدِ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً في عَلی یکم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: وَتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ باجماعت نماز پڑھنے والے کی فضیلت اکیلے شخص الله کی نماز پر پچیس درجے بڑھ کر ہے اور صبح کی نماز النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَقُولُ أَبُو میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے اکٹھے ہو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ - إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا۔جاتے ہیں۔(یہ حدیث بیان کر کے) حضرت ابوہریرہ کہتے تھے کہ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ (بنی اسرائیل: ۷۹) لو: اور صبح کے وقت (قرآن) کے پڑھنے کو بھی (لازم سمجھ)۔صبح کے وقت ( قرآن ) کا پڑھنا یقیناً اللہ کے حضور میں ایک) مقبول عمل ہے۔أطرافه ١٧٦، ٤٤٥ ،٤٧٧ ٦٤٧ ٦٤٨ ٦٥٩، ۲۱۱۹، ۳۲۲۹- تشريح : إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا: روایت زیر باب سے ظاہر ہے کہ قران الفجر سے صبح کی نماز مراد لی گئی ہے۔عنوان باب میں مجاہد کا قول جو مردی ہے وہ طبری نے بسند ابن ابی نجیح اور عوفی نے بھی حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے۔مذکورہ بالا مفہوم آیت کے ماسوا قُرآنَ الْفَجْرِ سے مراد مطلق قرآن مجید کی صبح کے وقت تلاوت بھی ہو سکتی ہے۔اور اس سے مراد وہ پیشگوئیاں بھی ہیں جن کا تعلق طلوع فجر کے ساتھ ہے، جب تاریکی بالکل دور ہو جائے گی اور اسلامی نور کا ظہور ہو گا۔کیونکہ قُرآنَ الْفَجْرِ سے متعلق یہ صراحت ہے کہ آنحضرت علی ایم کو مقام محمود پر کھڑا کیا جائے گا اور اس پیشگوئی کی شہادت تمام دنیا دے گی۔اس تعلق میں سیاق کلام یہ ہے: اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلى غَسَقِ الَّيْلِ وَ قُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّد به نَافِلَةٌ لَكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودان ( بني اسرائيل: ۷۹، ۸۰) سورج ڈھلنے کے وقت سے لے کر اس وقت تک کہ رات خوب تاریک ہو جائے نماز کو عمدگی سے ادا کر اور صبح کے وقت تلاوت قرآن کو بھی لازم سمجھ۔یقینا صبح کی تلاوت ایسی ہے کہ وہ (اللہ تعالیٰ کے حضور ) مقبول و مشہور ہے۔یعنی اس کے متعلق شہادت قائم کی جائے گی اور رات کو بھی سونے کے بعد شب بیداری کیا کر جو تیرے لئے ایک زائد انعام ہے۔امید ہے کہ تیر ارب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے۔مذکورہ بالا قیام شہادت اور مقام محمود کے تعلق میں اگلے دو ابواب کی روایتوں میں مزید وضاحت ہے۔