صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 531
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۳۱ ۶۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل شجرہ ملعونہ سے مراد جنس خبیث یعنی وہ شریر ٹولہ ہے جس نے نبیوں کا مقابلہ کیا اور ان کے مقدس مقاصد میں مشکلات اور روکیں پیدا کرنے کی کوشش کی۔قرآن کریم میں مذکور لفظ شجرہ ملعونہ کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود ﷺ نے فرمایا: ”میرے نزدیک آیت زیر بحث میں شجرہ ملعونہ سے مراد بنی اسرائیل کی قوم ہے۔اور چونکہ یہ سورۃ بھی خصوصاً سورۃ بنی اسرائیل کے متعلق ہے۔حتی کہ اس کا ایک نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ بنی اسرائیل بتایا ہے اور چونکہ اس آیت میں بنی اسرائیل ہی کا ذکر ہے کیونکہ اس آیت میں اسراء کا ذکر کیا گیا ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو بنی اسرائیل کے مرکز میں دیکھا اور وہاں نماز پڑھائی۔پس اسراء والی رویا کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ یہ رویا بھی لوگوں کے امتحان کا ذریعہ ہے۔اور بنی اسرائیل جن کا اس رویا میں خصوصیت کے ساتھ ذکر ہے وہ بھی ایک امتحان ہیں یعنی وہ ہمیشہ اسلام کی بلاوجہ مخالفت کرتے رہیں گے۔چنانچہ دیکھ لو کہ یہود کو سب سے زیادہ امن اسلامی ممالک میں ملتا ہے اور پھر بھی یہ لوگ اسلام سے دشمنی ہی کرتے چلے جاتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ ان کے امن کا واحد ذریعہ اسلام ہے یہودی رہ کر وہ دنیا کے ظلموں کا تختہ مشق ہی بنے رہیں گے۔آیت کے آخر میں فرمایا کہ ہم تو اس قوم کو ان کا انجام بتابتا کر ڈراتے ہیں لیکن یہ سرکشی میں اور زیادہ بڑھتی جاتی ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ بنی اسرائیل، آیت وَمَا جَعَلْنَا الرويا التى ادينك ، جلد چهارم صفحه ۳۵۸) بَاب ١٠: إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا (بنی اسرائیل: ۷۹) صبح کے وقت (قرآن) کا پڑھنا یقیناً (اللہ کے حضور میں ایک) مقبول عمل ہے قَالَ مُجَاهِدٌ صَلَاةَ الْفَجْر۔مجاہد نے کہا کہ اس سے مراد فجر کی نماز ہے۔٤٧١٧ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۷۱۷: عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَن عبد الرزاق بن ہمام) نے ہم سے بیان کیا کہ معمر الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَابْنِ الْمُسَيَّبِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے ، زہری نے