صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 530 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 530

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۳۰ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل ان معبودان باطله ( مثل مسیح ابن مریم، عزیر یا ملائکہ ) کا اپنا حال یہ ہے کہ وہ قرب رضائے الہی کے متمنی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور سزا سے خائف ہیں۔ اس آیت سے بہت وغیرہ ادنی کائنات مراد نہیں، کیونکہ انہیں الہی قربت و خشیت کا شعور و احساس تک نہیں، لیکن جن معبودوں کا اس آیت میں ذکر ہے ان کی نسبت بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی قرب آرزو رکھتے ہیں اور اس کی ناراضلی سے ترس ترساں ہیں۔ ترساں ہیں۔ غرض آیت کا غلط مفہوم مذکورہ بالا روایت سے رڈ کیا گیا ہے۔ کی باب ۹ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا التِي اَرَيْنَكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ (بني اسرائيل : ٦١ ) اور وہ رویا ہم نے تمہیں صرف اس لئے دکھائی تھی کہ وہ لوگوں کے لئے آزمائش کا موجب ہو ٤٧١٦ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۴۷۱۶: علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَمَا نے عمرو بن دینار) سے ، عمرو نے عکرمہ سے، جَعَلْنَا الرُّؤْيَا التِي أَرَيْنَكَ إِلَّا فِتْنَةٌ عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے النَّاسِ (بنی اسرائیل: ٦١) قَالَ هِيَ روایت کی کہ انہوں نے کہا: جس رویا کا ذکر آیت رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ وَمَا جَعَلْنَا الدُّنْيَا الَّذِي أَرَيْنَكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ ۔ میں ہے وہ آنکھ کا نظارہ تھا جو رسول اللہ صل اللہ ہم کو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ ( بني اسرائيل : (٦١) قَالَ شَجَرَةُ الزَّقُومِ۔ أطرافه: ٣٨٨٨ ٦٦١٣- اُس رات دکھلایا گیا جس میں آپ کو اسراء ہوا۔ اور وہ درخت جسے قرآن میں ملعون قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: وہ تھوہر کا درخت ہے۔ تشريح : وَمَا جَعَلْنَا الدُّنْيَا الَّتِي أَرَيْنَكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ: لفظ رقوم کے معنی ہیں تھوہر ۔ یعنی ایسے درخت جن کے پھل وغیرہ کھاتے ہی قے ہو جائے۔ نیز ہر ثقیل غذاء جو ہضم نہ ہو ر قوم کہلاتی ہے۔ تھوہر کڑوی ہوتی ہے اور اس کا حلق سے نیچے اتر نا مشکل ہے۔ جن لوگوں نے شجرہ خبیثہ سے تھوہر مراد لی ہے انہوں نے اسے بطور تمثیل ہی سمجھا ہے۔ا ہی سمجھا ہے۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ما تم نے حضرت عبداللہ بن عمرو کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ شجرہ ملعونہ سے مراد حکم بن ابی عاص اور اس کے بیٹے وغیرہ ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۷) ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الراب الرابع : اور وہ خواب جو ہم نے کے جو ہم نے تجھے دکھایا اُسے ہم نے نہیں بنایا مگر لوگوں کے لئے آزمائش۔“