صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 530
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۳۰ -۲۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل ان معبودان باطله ( مثل مسیح ابن مریم، عزیر یاملائکہ کا اپنا حال یہ ہے کہ وہ قرب رضائے الہی کے متمنی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور سزا سے خائف ہیں۔اس آیت سے بُت وغیرہ ادنی کائنات مراد نہیں، کیونکہ انہیں الہی قربت وخشیت کا شعور و احساس تک نہیں، لیکن جن معبودوں کا اس آیت میں ذکر ہے ان کی نسبت بنایا گیا ہے کہ وہ اپنی قرب کی آرزور کھتے ہیں اور اس کی ناراضگی سے ترساں ہیں۔غرض آیت کا غلط مفہوم مذکورہ بالا روایت سے رڈ کیا گیا ہے۔باب ۹ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا التِي أَرَبِّنَكَ إِلَّا فِتْنَةٌ لِلنَّاسِ (بنی اسرائیل: ٦١) اور وہ رویا ہم نے تمہیں صرف اس لئے دکھائی تھی کہ وہ لوگوں کے لئے آزمائش کا موجب ہو ٤٧١٦: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۴۷۱۶ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَمَا نے عمرو بن دینار) سے ، عمرو نے عکرمہ سے، جَعَلْنَا الرويا التي ارسُبكَ إِلَّا فِتْنَةٌ عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے للناس (بنی اسرائیل: ٦١) قَالَ روایت کی کہ انہوں نے کہا: جس رؤیا کا ذکر آیت رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ وَمَا جَعَلْنَا الدُّنْيَا التِي أَرَيْنَكَ إِلَّا فِتْنَةٌ لِلنَّاسِ۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ وَالشَّجَرَةَ میں ہے وہ آنکھ کا نظارہ تھاجو رسول اللہ صلی ا ہم کو اُس رات دکھلایا گیا جس میں آپ کو اسراء ہوا۔اور وہ درخت جسے قرآن میں ملعون قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا: وہ تھوہر کا درخت ہے۔هي المَنْعُونَةَ في القُرْآنِ (بنى اسرائيل: (٦١) قَالَ شَجَرَةُ الزَّقُومِ۔أطرافه: ٣٨٨٨، ٦٦١٣ - تشريح: وَمَا جَعَلْنَا الدُّنْيَا التِي أَرَيْنَكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ: لفظ رقوم کے معنی ہیں تھوہر۔یعنی ایسے درخت جن کے پھل وغیرہ کھاتے ہی تے ہو جائے۔نیز ہر ثقیل غذاء جو ہضم نہ ہو ر قوم کہلاتی ہے۔تھوہر کڑوی ہوتی ہے اور اس کا حلق سے نیچے اترنا مشکل ہے۔جن لوگوں نے شجرہ خبیثہ سے تھوہر مراد لی ہے انہوں نے اسے بطور تمثیل ہی سمجھا ہے۔ابن ابی حاتم نے حضرت عبد اللہ بن عمرو کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ شجرہ ملعونہ سے مراد حکم بن ابی عاص اور اس کے بیٹے وغیرہ ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۷) ג ? له ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع ، اور وہ خواب جو ہم نے تجھے دکھایا اسے ہم نے نہیں بنایا مگر لوگوں کے لئے آزمائش۔“