صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 529
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۲۹ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل ( حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ ۴۳۹) فرمایا: بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُؤْمِنُونَ (سبا: ۴۲) باب ۸ أولئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ (بني اسرائيل: ٥٨) الْآيَةَ وہ لوگ جنہیں وہ پکارتے ہیں وہ بھی اپنے رب کے قرب کے لئے کوئی ذریعہ تلاش کرتے ہیں ٤٧١٥ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ :۴۷۱۵ بشر بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ محمد بن جعفر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے شعبہ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي ہے، شعبہ نے سلیمان (اعمش) سے، سلیمان مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے ابو معمر سے، هَذِهِ الْآيَةِ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلى ابو معمر نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) رضی اللہ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ ( بني اسرائيل : ٥٨) عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے اس آیت قَالَ نَاسٌ مِنَ الْجِنِّ يُعْبَدُونَ الَّذِينَ يَدْعُونَ۔ یعنی جنہیں وہ پکارتے ہیں وہ بھی اپنے رب کے قرب کے لئے کوئی ذریعہ تلاش فَأَسْلَمُوا ۔ کرتے ہیں، کے بارے میں بتایا ( کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پرستش کی جاتی تھی پھر وہ مسلمان ہو گئے۔ طرفه ٤٧١٤ - تشريح : أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ : باب : باب کے روایت نمبر ۴۷۱۴ کے آخر میں اشجعی کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے اس کا تعلق معنونہ آیت سے ما قبل کی آیت قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ ازَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ - یعنی تو (انہیں) کہہ (کہ) جن لوگوں کے متعلق تمہارا دعویٰ ہے کہ وہ اس کے سوا الوہیت رکھتے ہیں انہیں (اپنی مدد کے لئے) پکارو، سے ہے۔ اور اس آیت سے بتایا گیا ہے کہ مشرکین کا اپنے معبودان یعنی انبیاء یا فرشتوں سے متعلق یہ خیال تھا کہ وہ نفع و نقصان کے مالک اور اس امر میں شریک باری تعالیٰ ہیں۔ بحالیکہ ا ترجمه حضرت خليفة المـ ت خليفة المسيح الرابع : " بلکہ وہ تو جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے ( اور ) ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لانے والے تھے۔“