صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 528 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 528

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۲۸ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرائي شريح: قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا: جن و انس سے بشری طبقہ حاکمہ وطبقہ محکومہ مراد ہے۔اول الذکر طبقہ نے دوسرے کو اپنا مسخر اور مغلوب کیا ہوا ہے اور اس کے لئے وہی معبود و مسجود ہیں۔چنانچہ ابن الستین کو بھی طبقہ بشری کی اس تقسیم کا احساس ہوا ہے اور اس روایت میں دونوں جن و انس کے لئے لفظ نائش آیا ہے جس کا تعلق بشر سے ہے۔نَاسٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعْبُدُونَ نَاسًا مِنَ الْجِنَّ : مندرجہ بالا آیت کے تعلق میں حضرت ابن عباس کی ایک روایت ہے کہ مشرکین اپنے خیال میں ملائکتہ اللہ عزیر اور مسیح ابن مریم علیہما السلام وغیرہ سے متعلق سمجھتے تھے کہ وہ نفع و نقصان کے مالک ہیں اور اپنی عبادت د دعاؤں میں ان سے بھی التجائیں کرتے تھے۔اس امر کی تائید عوفی کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے جو اس مفہوم میں حضرت ابن عباس سے ہی منقول ہے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۰۶٬۵۰۵) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ لفظ جن کی وضاحت کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں: اس بنا پر انکار کرنا کہ وہ اگر ہے تو ہمیں نظر کیوں نہیں آتی، دانشمندی سے بعید ہے۔خود جن کے لفظ میں یہ اشارہ موجود ہے کہ وہ ایک انسانی نظروں سے پوشیدہ مخلوق ہے۔اس مادہ سے جس قدر الفاظ نکلے ہیں اُن میں یہی معنے پائے جاتے ہیں۔مثلاً جنت، جنۃ جو انسان کو چھپا کر تلوار کے حملے سے محفوظ رکھتی ہے۔جنین وہ بچہ جو ماں کے پیٹ میں پوشیدہ ہو۔جنون، عقل کو چھپانے والا مرض۔جن کا اطلاق حدیث میں سانپ، کالے کتے، مکھی، چیونٹی، وبائی جرمز ، بجلی، کبوتر باز، زقوم، بائیں ہاتھ سے کھانے والا، بال پراگندہ رکھنے والا ، غراب، ناک یا کان کشا، شیر بر سردار و غیرہ پر بولا گیا ہے۔جن لغت میں بڑے آدمیوں پر بھی بولا گیا ہے۔چنانچہ لکھا ہے: جن الناس معظمھم۔شاید بڑے پیسے والے ساہوکاروں کو بھی اسی لئے مہاجن کہتے ہیں۔قرآن مجید میں بھی یہ لفظ غریب لوگوں کے مقابل ایک گروہ پر بولا گیا ہے۔پہلے فرمایا: وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تأمرُونَنَا أَنْ تَكْفَرَ بِاللهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَنْدَادًا (سبا: ۳۴) اس سے آگے ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور وہ لوگ جو کمزور بنا دیئے گئے تھے ان سے جنہوں نے تکبر کیا نگے ، بلکہ یہ تو رات دن کیا جانے والا ایک فریب تھا جب تم ہمیں اس بات کا دیتے تھے کہ ہم اللہ کا انکار کر دیں اور اس کے شریک ٹھہرائیں۔“