صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 32
صحيح البخاری جلد ۱۰ Fr ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة وَالْأَرْضِ - كُلٌّ لَهُ قُنِتُونَ ) (البقرة: ۱۱۷) ترجمہ: اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے (اپنے لیے ) ایک بیٹا بنالیا ہے۔(اُن کی بات درست نہیں) وہ ( تو ہر کمزوری سے) پاک ہے، بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ، اسی کا ہے۔سب اُس کے فرمانبر دار ہیں۔بَدِيعُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (البقرة: ۱۱۸) یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو ( بغیر کسی سابق نمونہ کے ) پیدا کرنے والا ہے اور جب وہ کسی آمر (کے عالم وجود میں لانے ) کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کے متعلق صرف یہ فرماتا ہے کہ تو ہو جا، سو وہ ہو جاتا ہے۔محولہ آیات اور روایت میں عیسائیوں اور مشرکین کے مروجہ عقائد باطلہ کا رہا ہے۔مشرکوں نے بھی خدا تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں تجویز کئے ہوئے تھے۔تاریخ مسیحیت سے ثابت ہے کہ اس میں رومانی مشرکین کے مشرکانہ عقائد داخل ہو گئے تھے۔بَاب :٩ : قَولُهُ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْراهِمَ مُصَلَّى (البقرة: (۱۳۲) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور حکم دیا تھا کہ ) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ مَثَابَةً (البقرة: ١٣٦) يَتُوبُونَ يَرْجِعُونَ مَثَابَةً کے معنی ایسی جگہ جہاں لوگ بار بار کوٹ کر آتے ہیں۔٤٤٨٣: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَى :۴۴۸۳ مسدد نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے بْنِ سَعِيْدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ يحي بن سعيد ( قطان) سے ، بچی نے حمید (طویل) قَالَ عُمَرُ وَافَقْتُ اللهَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ سے حمید نے حضرت انس سے روایت کی۔انہوں وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ قُلْتُ يَا نے کہا کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تین باتوں میں میری رَسُوْلَ اللهِ لَوِ اتَّخَذْتَ مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ رائے اللہ کے منشاء کے مطابق ہوئی، یا کہا: تین باتوں میں میرے رب نے میری رائے کے مطابق مُصَلَّى وَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَدْخُلُ کیا۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ مقام ابراہیم عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَ کو نماز کی جگہ قرار دیں (تو بہتر ہو ) اور میں نے کہا: أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِيْنَ بِالْحِجَابِ فَأَنْزَلَ اللهُ یا رسول اللہ ! آپ کے پاس اچھے اور بُرے آتے آيَةَ الْحِجَابِ قَالَ وَبَلَغَنِي مُعَاتَبَةُ النَّبِيِّ ہیں اگر آپ اُمہات المومنین کو پردہ کرنے کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ نِسَائِهِ لئے فرمائیں ( تو اچھا ہو)۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فَدَخَلْتُ عَلَيْهِنَّ قُلْتُ إِنِ انْتَهَيْتُنَّ أَوْ حجاب کا حکم نازل کیا۔کہتے تھے: اور مجھے یہ خبر پہنچی لَيُبَدِّلَنَّ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ که نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ سے ناراضگی