صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 526
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۲۶ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل تشريح : ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا: روایت زیر باب شفاعت انبیاء کے تعلق میں ہے۔ اس میں مذکور ہے کہ شفاعت چاہنے والوں نے حضرت نوح علیہ السلام سے ان الفاظ میں خطاب کیا: إِنَّكَ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَقَدْ سَمَاكَ اللهُ عَبْدًا شَكُورًا اشْفَعْ لَنَا ۔ یعنی یہ کہ آپ پہلے رسول ہیں جو زمین والوں کی طرف بھیجے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شکر گزار بندہ قرار دیا ہے۔ اپنے رب سے ہمارے لئے سفارش کریں۔ یہ خطاب بلحاظ پہلے شرعی نبی ہونے کے ہے۔ کتاب احادیث الانبیاء میں آنحضرت صلی علیکم کا مقام تکمیل شریعت واضح کیا جا چکا ہے۔ اس تعلق میں دیکھئے کتاب ام باب احادیث الانبیاء، تشریح باب ۳۔ بَاب ٦ : وَأَتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا (بني اسرائيل : ٥٦) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی ٤٧١٣ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ۴۷۱۳: اسحاق بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّةٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ معمر نے ہمام بن منبہ سے، ہمام نے حضرت اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے وَسَلَّمَ قَالَ خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ الْقُرْآنُ نبی صلی الم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: داؤد فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَابَّتِهِ لِتُسْرَجَ فَكَانَ يَقْرَأُ کے لئے (زبور ) پڑھنا آسان کیا گیا تھا۔ وہ اپنے قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ يَعْنِي الْقُرْآنَ ۔۔۔ جانور پر زین کتنے کا حکم دیتے اور زین کتنے سے پہلے پہلے وہ اسے پڑھ لیتے۔ یعنی جتنا پڑھنے أطرافه: ۲۰۷۳، ٣٤١٧۔ کا حکم ہوتا۔ تشریح : وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا : زبور ۔ زبورا: زبور سے مراد مخصوص دعائیں ہیں۔ دیکھئے کتاب احادیث الانبیاء، تشریح باب ۳۷۔ اس تعلق میں زبور باب ۳ تا ۴۱ دیکھا جا سکتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت اور حفاظت چاہنے، مصائب و مظالم سے نجات پانے، توکل علی اللہ سے لبریز فتح و ظفر مندی کی دعائیں شامل ہیں۔ ابوذر کے نسخہ میں اس جگہ ”الْقِرَاءَ“ کا لفظ ہے ۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔