صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 525
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۲۵ ۶۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ محمد ! آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور نبیوں کی مہر أُمَّتِي يَا رَبِّ أُمَّتِي يَا رَبِّ فَيُقَالُ يَا ہیں۔ اور اللہ نے آپ کو پہلے بھی گناہوں سے مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَّا حِسَابَ محفوظ رکھا ہے اور بعد میں بھی۔ اپنے رب سے ہماری سفارش فرمائیں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم عَلَيْهِمْ مِنَ الْبَابِ الْأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ کس حالت میں ہیں ؟ تو میں (یہ سن کر ) جاؤں گا الْجَنَّةِ وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى اور عرش کے نیچے آکر اپنے رب عزوجل کے ذَلِكَ مِنَ الْأَبْوَابِ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي حضور سجدے میں گر جاؤں گا اور اللہ مجھے اپنی نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ خوبیاں بیان کرنے کی توفیق دے گا کہ مجھ سے مِنْ مَّصَارِيعِ الْجَنَّةِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ پہلے کسی کو ویسی توفیق نہ دی ہو گی۔ پھر کہا جائے وَحِمْيَرَ أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى۔ گا : محمد ! تم اپنا سر اُٹھاؤ۔ مانگو تمہیں دیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ أطرافه: ٣٣٤٠، ٣٣٦١ - ووا تب میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور کہوں گا: اے میرے رب! میری امت ، اے میرے رب! میری امت۔ کہا جائے گا: محمد ! اپنی امت ہی سے جن لوگوں کے ذمہ کوئی حساب نہیں جنت کے دروازوں میں سے دائیں جانب کے دروازے سے جنت میں لے جاؤ اور اس کے سوا جو دوسرے دروازے ہیں ان میں بھی وہ لوگوں کے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (جنت کا دروازہ اتنا فراخ ہو گا کہ اس کے دو کواڑوں میں فاصلہ اتنا ہے جتنا مکہ اور حمیر کے درمیان ہے۔ یا (فرمایا:) جتنا فاصلہ مکہ اور بصری کے درمیان ہے۔ ا امام راغب نے ”غفر“ کے معنی محفوظ رکھنا بھی کئے ہیں۔ (المفردات فی غریب القرآن_غفر)