صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 524
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۲۴ ۶۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى فَيَأْتُونَ اور اپنے کلام سے لوگوں پر فضیلت دی ہے۔عِيسَى فَيَقُولُونَ يَا عِیسَی أَنْتَ اپنے رب سے ہماری سفارش کریں۔کیا آپ رَسُولُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ الْقُهَا إِلى مَرْيَمَ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں؟ وہ کہیں گے کہ میرارب تو آج اس قدر غضب میں ہے وَرُوحُ مِنْهُ (النساء: ۱۷۲) وَكَلَّمْتَ کہ اتنے غضب میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا : النَّاسَ فِي الْمَهْدِ صَبِيَّا ( مریم : ٣٠) اور نہ ہی اس کے بعد اتنے غضب میں ہو گا۔اور عصلى اشْفَعْ لَنَا، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ میں نے ایک جان کو مار ڈالا تھا جس کے مارنے کا فَيَقُولُ عِيسَى إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ مجھے حکم نہیں تھا۔مجھے تو اپنی پڑی ہے اپنی ہی الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ فکر ہے اپنی ہی فکر ہے۔میرے سوا کسی اور کے وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرُ پاس جاؤ۔(بہتر ہو کہ) تم عیسی کے پاس جاؤ۔وہ ذَنْبًا نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا حضرت عیسی کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے عیسی ! آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور اُس کا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ عبد الله کلمہ جو مریم کو اللہ تعالیٰ نے القا کیا اور اس کی روح فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا ع الله فَيَقُولُونَ يَا ہیں۔آپ نے گہوارے میں لوگوں سے باتیں کی مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللهِ وَخَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ تھیں (یعنی بچپن میں۔) ہماری سفارش کریں۔کیا وَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں؟ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَرَ (الفتح:۳) اشْفَعْ لَنَا حضرت عیسی کہیں گے کہ میرارت آج اس قدر إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ غضب میں ہے کہ ایسا غضب ناک اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا نہ اس کے بعد کبھی ہو گا۔انہوں فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ نے اپنے کسی گناہ کا ذکر تو نہیں کیا ( مگر کہیں گے :) سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَفْتَحُ اللهُ مجھے تو اپنی پڑی ہے اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے۔عَلَيَّ مِنْ مَّحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ (بہتر ہو گا کہ) شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي ثُمَّ تم محمد لى ل و نیم کے پاس جاؤ۔اور وہ حضرت محمد يُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ سَلْ تُعْطَهُ لا الا نیم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے : اے