صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 521
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۲۱ ۲۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل بادشاہ بھی ڈرتا ہے۔سعید بن جبیر اور حضرت ابن عباس کے حوالے سے آیت کی یہ تاویل بھی کی گئی ہے کہ امرنا متر فيها بالطاعَةِ فَعَصَوا۔یعنی ہم نے آسودہ حال لوگوں کو اطاعت کا حکم دیا مگر انہوں نے نافرمانی کی۔جیسا کہ کہتے ہیں: أَمَرْتُهُ فَعَصَانِي۔یعنی اس فقرے میں بالطاعة محذوف مقدر ہے۔یہ عام عربی کا اسلوب ہے جو حذف و تقدیر میں اختیار کیا جاتا ہے اور سیاق کلام سے اس کا پتہ چل جاتا ہے زمخشری نے اس تاویل کا انکار کیا ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ (أَنَّ حَذَفَ مَا لَا دَلِيلَ عَلَيْهِ غَيْرُ جَائِز ) جس کی دلیل نہ ہو اسے حذف کرنا جائز نہیں، لیکن مذکورہ بالا مثالوں میں قرینہ موجود ہے۔أَمَرْتُهُ فَعَصَانِی کی عبارت میں ہی قرینہ مقدر ہے کہ میں نے اسے فرمانبرداری کا حکم دیا اور اس نے انکار کیا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۰۲) زمخشری کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر کے تعلق میں احتیاط کی جائے ورنہ وہ جس پائے کے عالم ہیں اس کے پیش نظر یہ باور نہیں کیا جا سکتا کہ حذف و تقدیر کا قاعدہ جو عربی زبان میں عام ہے وہ اس سے بے خبر ہوں۔بابه : ذُرِّيَّةٌ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا (بنی اسرائیل: ٤ ) اور یہ بھی کہا تھا کہ اے) ان لوگوں کی نسل ! جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی پر سوار کیا تھا یاد رکھو کہ وہ یقیناً ( ہمارا) نہایت شکر گزار بندہ تھا ( پس تم بھی شکر گزار بنو) ٤٧١٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلِ :۴۷۱۲ محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ابو حیان تیمی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو زرعہ بن عمرو التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ بن جریر سے، ابو زرعہ نے حضرت ابوہریرہ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رَسول اللہ صلی ال نیم کے پاس گوشت لایا گیا اور اس وَسَلَّمَ بِلَحْمِ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّراعُ میں سے دستی کا گوشت اٹھا کر آپ کے سامنے وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً پیش کیا گیا اور آپ کو یہ بہت پسند تھا۔آپ نے ثُمَّ قَالَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اس گوشت میں سے کچھ دانتوں سے تھوڑا سا لیا۔پھر فرمایا کہ میں قیامت کے روز لوگوں کا سردار وَهَلْ تَدْرُونَ مِمَّ ذَلِكَ يُجْمَعُ النَّاسُ ہوں گا اور (کیا) تم جانتے ہو کس لئے ؟ پہلے اور الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ پچھلے لوگ ایک ہی میدان میں اکٹھے کئے جائیں يُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ گے۔پکارنے والا ان سب کو سنائے گا اور آنکھ ان