صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 520
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۲۰ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرا حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عبد الله بن زبیر ) حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا اور انہوں نے وَقَالَ أَمَرَ۔کہا کہ ( یہ لفظ) أَمر ہے ( أَمر نہیں)۔تشريح : وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ تُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا : لفظ امرنا فعل ماضی جمع متکلم ہے۔أمر اور أمير دونوں سے آتا ہے لیکن معنوں میں فرق ہے۔پہلے کے معنی ہیں ہم نے حکم دیا اور وو کا وو دوسرے کے معنی ہیں ہم نے تعداد میں یا دولت میں بڑھا دیا۔جیسا کہ روایت مذکورہ بالا میں ہے۔تعداد یا دولت کی کثرت مد نظر ہو تو ابن التین کے نزدیک أَمَرَ فُلان نہیں کہتے بلکہ امر کہتے ہیں۔اور جمہور کی قراءت أَمِرُنَا مُتَرَافِيهَا نہیں بلکہ آمَرُنَا مُترفیھا ہے۔ابو جعفر نے حضرت ابن عباس کی قراءت امرنا نقل کی ہے اور ابو زید قاری نے اس قراءت کو درست قرار دیا ہے۔ان کے سوا باقی قاریوں نے آمیز تا کی قراءت اوپری سمجھی ہے۔ان کے نزدیک آمدن مترفیها اگر پڑھا جائے تو اس کے معنی بھی تعداد اور دولت میں بڑھانا ہو سکتا ہے، جیسا کہ حضرت ابن مسعودؓ کی شرح میں مذکور ہے۔یعنی ہم نے آسودہ حال لوگوں کو بڑھایا۔فراء کا دعویٰ ہے کہ امر کا بھی بمعنی گھڑتا ہے۔یعنی ہم نے بڑھایا۔اور “ کی مد سے معنوں میں زیادتی پیدا ہو جاتی ہے۔لفظ امر ان معنوں میں استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: خَیرُ مَالِ الْمَرْءِ مُهْرَةٌ مَأْمُورَةٌ أَوْ سِكَةٌ مَأْبُورَةً یعنی آدمی کا سب سے بہتر مال وہ بچھڑا ہے جسے پال کر تیار کیا جائے یاوہ ہل جس کے آگے تیز دھاری دار پھل لگایا گیا ہو۔لفظ مأمورَةٌ میں ”، “جو بغیر مذ ہے تو بطور مزاوجت ( یعنی تجانس لفظی، مناسبت و ملائمت) ہے۔عثمان ہندی کے نزدیک امرنا (م کی شد سے) ہے۔یعنی ہم نے انہیں حاکم بنایا۔طبری نے بواسطہ علی بن ابی طلحہ حضرت ابن عباس سے امرنَا مُتْرَفِيهَا کے معنی سَلْطَنَا شِرَارَهَا: یعنی ہم نے شریروں کو مسلط کر دیا۔اس تعلق میں مجاہد، ابو عالیہ اور ابو عثمان کے قول کا حوالہ دیا ہے کہ انہوں نے امرنا (م کی تشدید سے) پڑھا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۲) آیت زیر تشریح پوری یہ ہے: وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ تُهْلِكَ قَرْيَةً آمَرُنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَ عَلَيْهَا القَولُ فَدَ مَرتهَا تَد ميران (بنی اسرائیل: ۱۷) اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کریں ( تو پہلے ) ہم اس کے آسودہ حال لوگوں کو ( نیکی کا ) حکم دیتے ہیں جس پر وہ اس بستی میں نافرمانی کرتے ہیں۔تب اس بستی کے متعلق ہمارا کلام پورا ہو جاتا ہے (یعنی اس کے برخلاف فرد جرم عائد ہو جاتا ہے) اور ہم اسے بالکل تباہ کر دیتے ہیں۔لفظ أمير کتاب بدء الوحی، باب ۶ روایت نمبرے میں بھی گزر چکا ہے۔ابوسفیان ہر قل شاہ روم کے دربار سے جب رخصت ہوا تو واپسی پر اس نے اپنے ساتھیوں سے آنحضرت صلی علیم کی نسبت یہ فقرہ کہا تھا: لَقَدُ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ، إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الأَصْفَرِ۔یعنی ابو کبشہ کے بیٹے کا معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔اس سے تو رومیوں کا (بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث، كتاب البيوع، باب فيما يُقتَنَى مِنَ الْمَالِ، جزء اول صفحه (۴۸۸)