صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 519
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۱۹ ۶۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل کے پیچھے نہ لگ جس کا مجھے علم نہیں۔پوری آیت یہ ہے: وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفَؤَادَ كُلُّ أُولَبِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْسُولاں (بنی اسرائیل: ۳۷) اور جس بات کا تجھے علم نہ ہو وہ نہ کہو۔کیونکہ کان آنکھ اور دل یقینا ہر ایک کے متعلق پوچھا جائے گا۔فَجَاسُوا : تَيَنبُوا - انہوں نے قصد کیا، انہوں نے رُخ کیا۔فَجَاسُوا خِللَ الدِّيَارِ: مختلف بستیوں میں گھس گئے ( تاکہ ان کے باشندوں کو اشتعال دلائیں اور بھڑکائیں۔آیت کا یہ مفہوم ابن ابی حاتم نے بواسطہ علی بن ابی طلحہ حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے۔ابو عبیدہ نے جَاسَ يَجُوش کے معنی نَقَبَ يُعَقِّبُ کئے ہیں۔یعنی دور تک چلا گیا۔اس کے علاوہ جاس کے معنی نزل، قتل، تردد ( اتر ) قتل کیا، چکر لگایا ) اور طَلَبُ الشَّيْء بِاسْتِقْصَاءٍ (انتہائی کوشش سے جستجو کی) بھی مروی ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ (۵۰) فرماتا ہے: فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أَوْلَهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَنَا أولى بأس شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِللَ الدِيَارِ وَكَانَ وَعْدًا مَفْعُولان (بنی اسرائیل: ٦) جب ان دو (فسادوں میں سے ) پہلی بار کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آیا تو ہم نے اپنے بعض ایسے بندے کھڑے کر دئے جو سخت جنگجو تھے تو وہ گھروں کے اندر گھس گئے ( اور قتل عام کیا ) اور یہ وعدہ پورا ہو کر رہنے والا تھا۔يُرجى الْفُلْكَ : کشتیاں چلاتا ہے۔آر جی یزچی کے معنی اجرى يُجرِی ہیں۔یہ معنی طبرگی ہی نے بواسطہ علی بن ابی طلحہ حضرت ابن عباس سے نقل کئے ہیں اور قتادہ سے بھی یہی معنی منقول ہیں۔انہوں نے آر بھی ٹیڈ چی کے معنی سير يسير کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ (۵۰) بَاب وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ تُهْلِكَ قَرْيَةٌ اَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا (بنی اسرائیل: ۱۷) اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کریں تو (پہلے) ہم اس کے آسودہ حال لوگوں کو ( نیکی کا حکم دیتے ہیں ٤٧١١: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۴۷۱۱: علی بن عبد اللہ نے ہمیں بتایا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔منصور نے ہمیں أَبِي وَائِلِ عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ كُنَّا خبر دی۔انہوں نے ابووائل سے، ابووائل نے نَقُولُ لِلْحَيِّ إِذَا كَثُرُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ) سے روایت کی کہ أَمِرَ بَنُو فُلَانٍ۔انہوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں جب کوئی قبیلہ تعداد میں بڑھ جاتا تو ہم کہتے : فلاں قبیلہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔