صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 519 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 519

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۱۹ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل کے پیچھے نہ لگ جس کا تجھے علم نہیں۔ پوری آیت یہ ہے : وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ) ( بنی اسرائیل: ۳۷) اور جس بات کا - اور جس بات کا تجھے علم نہ ہو وہ نہ کہو۔ کیونکہ کا نہ کہو۔ کیونکہ کان آنکھ اور دل یقینا ہر ایک کے متعلق پوچھا جائے گا۔ فَجَاسُوا : تَيَتَمُوا - انہوں نے قصد کیا، انہوں نے رُخ کیا۔ فَجَاسُوا خِللَ الدِّيَارِ : مختلف بستیوں میں گھس گئے تاکہ ان کے باشندوں کو اشتعال دلائیں اور بھڑکائیں۔ آیت کا یہ مفہوم ابن ابی حاتم نے بواسطہ علی بن ابی طلحہ حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے۔ ابو عبیدہ نے جَاسَ يَجُوسُ کے معنی نَقَبَ يُنقب کئے ہیں۔ یعنی دور تک چلا گیا۔ اس کے علاوہ جاس کے معنی نَزَلَ ، قَتَلَ ، تَرَدَّدَ ( اترا، قتل کیا، چکر لگایا) اور طلبُ الشَّيْءِ بِاسْتِقْصَاءِ ( انتہائی کوشش سے جستجو کی ) بھی مروی ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۱) فرماتا ۔ ۵۰۱) فرماتا ہے : فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أَولَهُمَا أولهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِلْلَ الدِّيَارِ وَكَانَ وَعْدًا وَكَانَ وَعْدًا مَفْعُولًا ( بنى اسرائيل : ٦) جب ان دو (فسادوں میں سے ) پہلی بار کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آیا تو ہم نے اپنے بعض ایسے بندے کھڑے کر دئے جو سخت جنگجو تھے تو وہ گھروں کے اندر گھس گئے ( اور قتل عام کیا ) اور یہ وعدہ پورا ہو کر رہنے والا تھا۔ يُرْجِی الْفُلْكَ : کشتیاں چلاتا ہے۔ آر جی يُرْجِی کے معنی آخری ٹیجْرِی ہیں۔ یہ معنی طبری ہی نے بواسطہ علی بن ابی طلحہ حضرت ابن عباس سے نقل کئے ہیں اور قتادہ سے بھی یہی معنی منقول ہیں۔ انہوں نے آر جی یوجی کے معنی سير يسير کئے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۱) بَاب : وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ تُهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا (بنی اسرائیل: ۱۷) اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کریں تو ( پہلے ) ہم اس کے آسودہ حال لوگوں کو ( نیکی کا حکم دیتے ہیں ٤٧١١ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۴۷۱۱: علی بن عبد اللہ نے ہمیں بتایا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ منصور نے ہمیں أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ كُنَّا خبر دی۔ انہوں نے ابو وائل سے، ابووائل نے نَقُولُ لِلْحَيِّ إِذَا كَثُرُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ حضرت عبداللہ بن مسعود) سے روایت کی کہ أَمِرَ بَنُو فُلَانٍ۔ انہوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں جب کوئی قبیلہ تعداد میں بڑھ جاتا تو ہم کہتے: فلاں قبیلہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔