صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 518
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۱۸ -۲۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل و ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔جب بھی اس کی گرمی مدھم ہو گی ہم اُسے اور بھڑ کا دیں گے۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاس لَا تُبَدِّرُ - لَا تُنفِقُ فِي الْبَاطِلِ : تو باطل کاموں میں اپنا مال خرچ نہ کر۔طبری نے عطاء خراسانی کے ذریعہ حضرت ابن عباس کی یہ تشریح نقل کی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۱) فرماتا ہے : وَآتِ ذَا الْقُربى حَقَةَ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا إِنَّ الْمُبَذِرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيطِيْنِ وَكَانَ الشَّيْطَنُ لِرَبِّهِ كَفُورًا (بنی اسرائیل: ۲۸،۲۷) اور قریبی رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین اور مسافر کو بھی دے اور ناجائز طور پر خرچ نہ کر کیونکہ اسراف کرنے والے لوگ یقینا شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بہت ہی ناشکر گزار ہے۔عکرمہ سے بھی تبذیر کے یہی معنی منقول ہیں۔اسی طرح حضرت ابن مسعودؓ و دیگر صحابہ نے بھی یہی معنی کئے ہیں۔بعض روایتوں میں یہ الفاظ ہیں: كُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ نَتَحَدَّثُ أَنَّ التَّبْذِيرَ النَّفَقَةُ فِي غَيْرِ حَقٍ۔ہم محمد رسول اللہ صلی اسلم کے ساتھی آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ تبذیر وہ خرچ ہے جو نا جائز باتوں میں کیا جائے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه (۵۰) ابْتِغَاء رَحْمَةٍ - رِزْقٍ۔رزق چاہنے کی غرض سے۔طبری نے بواسطہ عطاء الخراسانی حضرت ابن عباس سے آیت وَإِمَّا تُعْرِضَنَ عَنْهُمُ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ تَرْجُوهَا میں رَحْمَةٍ سے مراد رزق نقل کیا ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَإِمَّا تُعْرِضَنَ عَنْهُمُ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَّبِّكَ تَرْجُوهَا فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا فَيَسُوران (بھی اسرائیل: ۲۹) اور اپنے رب کی کسی بڑی رحمت کے حصول کے لئے جس کی تو امید رکھتا ہے ان (رشتہ داروں) سے اعراض کرے (تو یہ اعراض جائز ہے) تب بھی ان سے ایسی بات کر جس میں لطف اور مہربانی ہو۔ابن ابی حاتم نے ابراہیم نخعی سے رَحْمَةٍ کے معنی فضل نقل کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۱) یہاں اس میں فضل سے مراد وحی و مکالمہ سے مخصوص کرنا بھی ہو سکتا ہے۔مَثْبُورًا: مَلْعُونًا۔یعنی رحمت الہی سے دور۔یہ معنی طبری نے حضرت ابن عباس سے بواسطہ علی بن ابی طلحہ نقل کئے ہیں، اور اس کے علاوہ اس کے کئی اور معنی بھی ان سے مروی ہیں۔مثلاً بواسطہ عوفی مَغْلُوبًا یعنی مغلوب، اور بواسطہ مجاہد هَالِحًا یعنی ہلاک ہونے والا ، بواسطہ قادةٌ مُهْلِعا یعنی ہلاک کرنے والا، بواسطہ عطیہ مُغَيّرا مُبَدِّلًا یعنی بگاڑنے والا اور تبدیل کرنے والا، اور بواسطہ ابن زید بن اسلم مخبولا مروی ہیں۔مخبولا کے معنی ہیں وہ جسے عقل نہ ہو۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه (۵۰) فرماتا ہے: قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنْزَلَ لهؤلاء إِلا رَبُّ السَّيُوتِ وَالْأَرْضِ بَصَابِرَ وَإِنِّي لأَظُنُّكَ يُفِرْعَوْنُ مَثْبُوران (بنی اسرائیل: ۱۰۳) حضرت موسیٰ نے کہا: تمہیں یقینا علم ہو چکا ہے کہ یہ نشانات زمین و آسمانوں کے رب نے ہی نازل کئے ہیں کہ وہ بصیرت بخشنے والے ہوں۔اور میں یقیناً تجھے اے فرعون ہلاک شدہ یقین کرتا ہوں۔لفظ مظبوراً ان تمام معنوں ہی میں آیا ہے۔رحمت الہی سے دور، مغلوب ، ہلاک ہونے والا، ہلاک کرنے والا، دین بگاڑنے والا ، یا دین تبدیل کرنے والا اور کم عقل۔لَا تَقْفُ : لَا تَقُلْ - قَفَا يَقْفُو تَبعَ يَتْبَعُ کے معنی میں ہے۔یعنی لا تَتَّبَعُ - مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ : ایسی بات